8 دسمبر 2015
وقت اشاعت: 8:44
منشیات فروخت کرتے کرتے ناول نگار بننے والی خاتون
جیو نیوز - کراچی…ساگر سہندڑو…بچپن میں بھوک کا شکار رہنے کے بعد منشیات استعمال کرنے اور پھر کم عمری میں ہی اپنی حفاظت کیلئے پستول اٹھانے والی برازیلی خاتون نے حال ہی میں ایک ناول لکھ کر دنیا کو حیران کردیا جبکہ اگلے 2 ماہ میں خاتون کے 2 شعری مجموعے بھی منظر عام پر آنے والے ہیں۔
طویل عرصہ تک جرائم، منشیات کے کاروبار، جسم فروشی اور قتل و غارتگری جیسے واقعات کے حوالے سے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں شمار ہونے والے لاطینی امریکہ کے بڑے ملک برازیل کے بڑے شہر ریوڈی جنیرو میں پیدا ہونے والی راکیل ڈے اولیورا نے نشے کے عادی باپ کے ظلم سے تنگ آکرگھر چھوڑا تھا اور صرف 6 برس کی عمر میں ہی منشیات استعمال کرنا شروع کردی تھی۔
فرانسیسی ادارے اے ایف پی کے مطابق 54 سالہ ڈے اولیورا کو گھر سے بھاگنے کے بعد ان کی نانی نے پیسوں کے عیوض لڑکیوں سے جسم فروشی کاکا روبار کرانے والے شخص کے ہاں فروخت کردیاتھا۔خوش قسمتی سے اولیورا جسم فروشی سے تو محفوظ رہیں لیکن بلوغت کو پہنچنے سے پہلے ہی 11 برس کی عمرمیں انہوں نے اپنی حفاظت کیلئے پستول اٹھالیا۔
کئی سالوں تک شراب نوشی، منشیات اور گلیمر کی زندگی گزارنے کے بعد 1980ء میں 20 سال کی عمر میں راکیل اولیورا کو جرائم اور منشیات کے بادشاہ نالڈو سے محبت ہوگئی، جو اس وقت اپنے انجام کو پہنچی جب ان کا محبوب پولیس مقابلے میں مارا گیا ۔ فلموں اور ناولوں کی طرح زندگی گزارنے والی اولیورانے نالڈو سے بعد میں شادی بھی کی لیکن ان کی خوشیاں زیادہ عرصہ نہیں چل سکیں اور جلد ہی اولیورا ایک بار پھر اکیلے پن کا شکا رہوگئیں۔
شوہر کے قتل کے بعدڈے اولیورا ایک بار پھر منشیات، شراب نوشی اور جرائم کی دنیا میں وقت گزارنے لگیں، لیکن 2005 میں ایک دوست نے انہیں معمول کی زندگی کی طرف لانے اور منشیات سے جان چھڑانے والے ادارے میں داخل کرادیا، جہاں کئی سالوں تک ڈے اولیورا کو علاج کے ساتھ کتابیں پڑھنے کو دی گئیں،منشیات کی عادی راکیل کیلئے ادارہ سودمند ثابت ہوا اسے شاعری، ناول اور کتابوں میں دلچسپی ہوگئی۔
گزشتہ ماہ ریو ڈی جنیرو میں ہونے والے ایف ایل یو پی پی نامی ادبی میلے میں خطاب میں راکیل ڈے اولیورا کا کہنا تھا ان کے پہلے ناول ” نمبر ون“کا موضوع خود ان کی زندگی ہی ہے، انہوں نے بچپن، لڑک پن، جوانی اور منشیات کے کاروبار کی ملکہ سے لکھاری بننے والے سفر کو ناول کی زینت بنایا ہے اور جلد ہی قارئین ان کے شاعری کے 2 مجموعے پڑھ سکیں گے۔
ماضی میں شراب اور منشیات کواپنے شوہر کی محبت کا نعم البدل سمجھنے والی ڈیاولیورا اب ادب اور کتابوں کو اپنی زندگی کا تمام اثاثہ سمجھتی ہیں،اولیورا نے کہا کہ شعری مجموعہ شائع ہونے سے پہلے ہی وہ تعلیم کے شعبے میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے تعلیم کا سلسلہ شروع کریں گی،ماضی کی تلخ زندگی کو بھلا کر وہ لکھاری کی حیثیت سے آگے بڑھیں گی۔
گزشتہ ماہ جاری ہونیوالی حکومتی رپورٹ کے مطابق ماضی میں منشیات اور شراب نوشی کے حوالے سے بدترین ممالک کی فہرست میں شامل برازیل میں ایک عشرے کے دوران جرائم پیشہ خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے،برازیل کا شمار منشیات فروشی، شراب نوشی، کوکین، تشدد، کرپشن، جسم فروشی اور ڈکیتی سمیت قتل کی وارداتوں کے حوالے سے30 بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔