10 دسمبر 2015
وقت اشاعت: 16:35
سلمان خان کی بریت نے تفتیش پر کئی سوال کھڑے کردیئے
جیو نیوز - ممبئی......بالی وڈ اداکار سلمان خان کی بریت نے ممبئی پولیس کی تفتیش پر کئی سوال کھڑے کردیے۔
ممبئی ہائیکورٹ نے سلمان خان کو رہا کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ’’ وہ نہیں جانتے کہ عام آدمی کیا سوچ رہا ہے، سامنے موجود شواہد پر سلمان خان کو سزا نہیں ہوسکتی‘‘۔
ستمبر 2002ء میں جب باندرہ ممبئی میں ایک تیزرفتار لینڈ کروزر نے فٹ پاتھ پر سوئے 5مزدوروں میں سے ایک کو موت کی نیند سلادیا اور چار زخموں سے چور ہوئے۔ممبئی ہائی کورٹ نے 13سال پہلے ہوئے اس حادثے کے مقدمے سے بالی وڈ سپر اسٹار سلمان خان کو باعزت بری کردیا۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عام آدمی کیا سوچتا ہے، استغاثہ کی جانب سے جو شواہد اور گواہوں کے بیانات پیش کیے گئے وہ سلمان کو سزا سنانے کے لیے ناکافی ہیں،یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ سلمان نشے کی حالت میں تھے اور گاڑی چلارہے تھے۔
اس فیصلے نے ممبئی پولیس کی تفتیش پر کئی سوال کھڑے کردیے،جس نے سلمان خان کے ساتھ گاڑی میں موجود ان کے دوست کمال خان سے کسی بھی وقت پوچھ گچھ نہیں کی۔
سلمان خان کے باڈی گارڈ پولیس کانسٹیبل رویندرا پٹیل نے حادثے کی ایف آئی آر سلمان کے خلاف درج کرائی تھی اور عدالت کے سامنے بیان بھی ریکارڈ کرایا لیکن اس کے بعد ہونے والی کئی سماعتوں میں پٹیل گواہی دینے نہیں آیا،جس کے بعد اس کے پیٹی بند بھائیوں نے ہی اسے گرفتار کرکے آرتھر روڈ جیل میں ڈال دیا۔
وہی رویندرا پٹیل جو 2007ء میں ٹی بی کے ہاتھوں زندگی ہار گیا اور گھر والے لاش اٹھاتے ہوئے بھی خوف زدہ رہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پٹیل کی موت کو سلمان کے وکیلوں اپنے حق میں یہ دلیل دے کر استعمال کیا کہ جب بیان پر جرح نہیں ہوسکی تو سزا کیسے سنائی جاسکتی ہے۔
کہانی میں ایک ٹوئسٹ اس وقت بھی آیا جب مرنے والے کی ذمہ داری گاڑی سے ہٹا کر ساتھ لگی کرین پر ڈال دی گئی جو حادثے کی شدت سے نیچے آگری تھی۔
سلمان کی رہائی سے ان پر لگے بالی وڈ کے دو سو کروڑ روپے تو محفوظ ہوگئے،لیکن 28ستمبر 2002ءکو نور اللہ شریف کس کے ہاتھوں مارا گیا، اس سوال کا جواب نہیں مل سکا۔