5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
بااثر افراد پر ہاتھ نہ ڈالنے کا کلچر ختم ہونا چاہئے،چیف جسٹس
جنگ نیوز -
اسلام آباد…چیف جسٹس افتخار محمدچودھری نے نیشنل انشورنس کارپوریشن لمیٹڈاسکینڈل کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ بااثر افراد پر ہاتھ نہ ڈالنے کا کلچر ختم ہونا چاہئے، قوم کے پیسے کو شیر مادر سمجھ رکھا ہے ،بس بہت ہو چکا ، آخر ایسا کب تک ہوتا رہے گا۔ سپریم کورٹ میں جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں جسٹس خلیل الرحمن رمدے اور جسٹس ثائر علی پر مشتمل بنچ نے این آئی سی ایل کیس کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس افتخار محمدچودھری نے تفتیش کرنیوالے افسروں کوتبدیل کئے جانے پربرہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ایف آئی اے انہیں واپس لائے ورنہ عدالت تبادلے کے احکامات منسوخ کر دیگی۔ عدالت نے سیکرٹری کامرس کو این آئی سی ایل کی آڈٹ رپورٹ سمیت طلب کرلیا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بتایا کہ این آئی سی ایل میں5 ارب روپے کا نقصان ہوا،ایک ملزم محمد مالک کو گرفتار کیا ہے، جس نے بتایا کہ اس نے22 کروڑ کی رقم مونس الٰہی کو دی ، محمد مالک الطہور انٹرنیشنل کا منیجر ہے اور یہ کمپنی مونس الٰہی کی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ این آئی سی ایل میں18 ارب سے زیادہ کا اسیکنڈل ہے۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چوروں کو بچانے کیلئے چور اکٹھے ہوگئے ہیں۔ علاوہ ازیں چیف جسٹس نے آج سیکرٹری داخلہ اور ایف آئی اے کے تفتیشی افسران کو طلب کرلیا ہے۔