5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
این آر او ،18ویں ترمیم کادفاع،وکلاکو 2کروڑ 61لاکھ روپے کی ادائیگی
جنگ نیوز -
اسلام آباد…وفاقی وزارت قانون و انصاف و پارلیمانی امور نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ عدالت عظمیٰ میں این آر اوکے دفاع کے لیے وکلا کو ساڑھے66 لاکھ روپے جبکہ اٹھارویں ترمیم کے دفاع کے لیے1 کروڑ95 لاکھ روپے ادا کیے گئے ہیں۔قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت قانون نے تحریری طور پر بتایا کہ عدالت عظمیٰ میں این آر او کے دفاع کرنے والے وکلا میں کمال اظفر کو فیس کی مد میں40 لاکھ روپے،مسعود چشتی کو15 لاکھ،کے کے آغا کو دس لاکھ اور راجہ عبد الغفور کو ڈیڑھ لاکھ روپے ادا کیے گئے جبکہ اب گورنر پنجاب بن جانے والے لطیف کھوسہ کی وکالت کے بدلے فیس ابھی طے نہیں ہوئی۔وزارت نے بتایا کہ اٹھارہویں ترمیم کے دفاع کے لیے وسیم سجاد کو59 لاکھ روپے،سردار غازی کو10 لاکھ، بیرسٹر باچا کو10 لاکھ،راجہ ابراہیم ستی کو10 لاکھ،صلاح الدین گنڈا پور کو7 لاکھ،افتخار الحق کو5 لاکھ ،محمد نصر اللہ وڑائچ کو3 لاکھ،ممتاز مصطفی کو12 لاکھ،مشتاق مسعود کو10 لاکھ،خورشید احمد سعودی کو10 لاکھ،افتخار میاں کو5 لاکھ ،محمود شیخ کو2 لاکھ ادا کیے گئے جبکہ مسعود چشتی کو15 لاکھ روپے کی ادائیگی کا عمل چل رہا ہے۔ایوان کو بتایا گیا کہ اس وقت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذمہ عالمی مالیاتی اداروں کے1 ارب58 کروڑ ڈالرز کا قرضہ واجب الادا ہے۔ایوان میں وزیر پٹرولیم نوید قمر نے بتایا کہ ملک میں نئے سی این جی اسٹیشنز کے لائسنس کے اجرا پر پابندی ہے جبکہ صوبوں میں گیس کی تقسیم آئین کے مطابق کی جا رہی ہے۔