5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
کرنل امام کا قتل طالبان کے کنٹرول کے خاتمے کو ظاہر کرتا ہے،رپورٹ
جنگ نیوز -
لندن…فارن ڈیسک…کرنل امام کا قتل پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان کے کنٹرول کے خاتمے کو ظاہر کرتا ہے اس کے ساتھ سرحدی علاقے طالبان کا مضبوط گڑھ قرار دینے والے امریکی دعوے کو بھی بے نقاب کر تا ہے۔طالبان کے ایک گروپ نے کرنل امام کے قاتلوں کو قتل کرنے کا اعلان کردیا جبکہ دوسری طرف طالبان ہی نے قتل کی انکوائری بھی شروع کردی ۔برطانوی اخبار’ٹیلی گراف‘ کے مطابق پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے سابق آفیسرکرنل امام جنہیں چارلی ولسن جنگ میں اعزاز سے نوازا گیا ان کی قبائلی علاقے میں موت سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں طالبان کا کنٹرول ختم ہو رہا ہے۔ شمالی وزیرستان میں آج رات طالبان کے ایک گروپ نے انکوائری کی کہ کس گروپ نے کرنل امام کو قتل کیا اور اعلان کیا کہ جن لوگوں نے کرنل امام کو قتل کیا ان کو بھی قتل کردیا جائے گا ۔اخبار نے پاکستانی تجزیہ کاروں کے حوالے سے کہا کہ کرنل امام کا قتل شمالی وزیرستان میں اہم افغان طالبان قیادت کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے اس کے ساتھ امریکی دعوے کو بھی چیلنج کردیا جو کہتے ہیں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان کا مضبوط گڑھ ہے جو افغانستان میں ناٹو پر حملے کر رہے ہیں۔طالبان کے مولوی نزیر گروپ نے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کردیا ہے۔ اخبار کے مطابق کرنل امام کو 1980ء میں افغانستان میں سوویت جارحیت کے دوران جنگ میں موجودہ طالبان رہنماوٴں کی تربیت کا کریڈٹ دیا جا تا ہے۔انہیں امریکی صدرجارج بش کی طرف سے چارلی ولسن جنگ میں اہم کردار ادا کرنے پر اعزاز سے نوازا گیا۔نائن الیون واقعے کے بعد وہ ناٹو کے خلاف طالبان عسکریت پسندی کا بڑے حامی تھے۔