5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
کراچی میں آپریشن ہوا نہ کرنے کا ارادہ ہے، وفاقی وزیرداخلہ
جنگ نیوز -
اسلام آباد…وفاقی و زیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ وہ کراچی میں آپریشن کی سختی سے تردید کرتے ہیں،آپریشن ہوا ہے اور نہ کرنے کا پروگرام ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان سے کراچی میں اسمگل کئے جانے والے اسلحے کی بڑی کھیپ رسول آباد چیک پوسٹ پر پکڑی گئی ہے جس پر افغان حکومت سے تحریری احتجاج کر رہے ہیں ۔انہوں نے یہ باتیں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت کے دوران کیں،رحمن ملک نے کہا کہ کراچی کو غیر مستحکم کرنے کیلئے لبنان جیسی صورتحال پیدا کرنے کی بہت بڑی سازش کی گئی تھی جس میں سیاسی قیادت سمیت صحافیوں اور دیگر افراد کو مارنے کا منصوبہ تھا۔انہوں نے ایک سوال پرکہا کہ فوج بھی پاکستان کی ہے کبھی ضرورت پڑے گی تو بلا سکتے ہیں لیکن دعا کریں کہ ایسے حالات پیدا نہ ہوں۔رحمان ملک نے کہا کہ وہ کوئی پھرتیاں نہیں مار رہے اور نہ پھرتیاں مارنے کا ارادہ ہے،قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی حوصلہ افزائی کیلئے ہر جگہ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں دو مرحلوں میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر صرف ٹارگٹڈ بیسڈ کارروائی کی گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ رسول آباد چیک پوسٹ پر پکڑے جانیوالے ا سلحے میں چار خود کش جیکٹس،دو راکٹ لانچرز،ڈیٹو نیٹرز،40 ہینڈ گرنیڈز،ایس ایم جی رائفلز، راؤنڈز،بیٹریز اور2054 بال بیرنگ تھے جو کراچی میں عاشورہ پر بھی استعمال ہو سکتے تھے۔انہوں نے کہا کہاس بارے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔ رحمان ملک نے کہا کہ جنوری میں25 دہشت گرد پکڑے گئے ہیں ،کراچی میں ٹارگٹ کلنگ نہیں ذاتی دشمنیوں کی وجہ سے لوگ مارے گئے۔میڈیا تحقیق کے بغیر ٹارگٹ کلنگ کے طور پر نیوز نہ دے۔ڈی جی ایف آئی اے کی گرفتاری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کا نہیں خیال کہ عدالت عظمیٰ نے ایسے احکامات دئیے،عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو تحقیقات کی ہدایات دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ولی بابر کی شہادت میں ملوث اہم ملزمان پکڑے گئے ہیں اور مرکزی ملزم کی گرفتاری کیلئے کارروائی جاری ہے۔