29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
عرب دنیا میں بے چینی کی لہر،عوام دکھاوے کے اقدامات سے غیر مطمئن
جنگ نیوز -
قاہرہ…عرب دنیا اور شمالی افریقہ میں اٹھنے والا عوامی طوفان روزبروز شدت اختیار کرتا جارہا ہے ۔ حکمرانوں نے عوام کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کیلئے مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے لیکن اس کے کوئی مفید نتائج نکلتے نظر نہیں آرہے۔ تیونس سے شروع ہونے والے عوامی انقلاب کی لہروں نے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور آئے دن تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ۔ بڑی تعداد میں گرفتاریاں اور طاقت کا استعمال اپنے حقوق کی جدوجہد کرنیوالے لوگوں کو دبانے میں ناکام رہا ہے ۔ تیونس میں کامیاب انقلاب کے بعد مصر میں بھی احتجاجی تحریک کی وجہ سے حسنی مبارک اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے لیکن عوام کو ان کی جدوجہد کا صلہ اب تک نہیں مل سکا ۔ حکمراں فوجی کونسل نے ملک میں انتخابات سمیت مختلف اقدامات کا اعلان تو کیا ہے لیکن مصری عوام کے دوبارہ سڑکوں پر آنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انہیں فوجی کونسل کے اعلانات اور اقدامات پر اعتماد نہیں ہے ۔ ادھر شام میں کئی ہفتے کے عوامی احتجاج کے بعد صدر بشار الاسد ملک میں کئی دہائیوں سے نافذ ایمرجنسی قوانین کو اگلے ہفتے سے ختم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ اسے عوامی احتجاج کی کامیابی کا پہلا مرحلہ کہا جارہا ہے لیکن مظاہرین ایمرجنسی قوانین کے خاتمے ساتھ مزید شہری آزادیاں چاہتے ہیں۔ عرب دنیا کے دیگر رہنماؤں کی طرح صدر بشار الاسد کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ ملک کو ایک سازش کا سامنا ہے ۔ یمن ، بحرین اور الجزائر کی حکومتوں نے بھی عوام کے غم و غصے کو دبانے کیلئے سخت قوانین کے خاتمے ، عوام کو شہری آزادیاں اور مختلف مالی مراعات دینے اور سیاسی اصلاحات کرنے کے اعلانات اور وعدے کئے ہیں لیکن عوام کئی دہائیوں سے برسراقتدار رہنماؤں سے مزید فریب کھانے کو تیار نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتوں کے تمام حربے ناکام ہوتے جارہے ہیں اور مظاہرین اپنے مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔ بظاہر نظر یہی آرہا ہے کہ اعصاب کی اس جنگ میں جیت عوام کی ہوگی ۔