تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59

این آر او نظرثانی:کوئی دلائل نہیں دیگا تو وزیراعظم کو آنا ہوگا، چیف جسٹس

جنگ نیوز -
اسلام آباد…چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے این آر او نظرثانی کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ وفاق کا مطلب ہوتا ہے وزیر اعظم ، اگر اس کیس میں کوئی دلائل نہیں دیگا تو وزیر اعظم کو آنا ہو گا ۔چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ نظرثانی درخواست مسترد ہوئی تو این آر او عمل درآمد کیس کی سماعت فوراً شروع کردیں گے ۔این آر او نظرثانی کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں17 رکنی فل کورٹ نے کی ۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق کو دلائل دینے کی ہدایت کی ۔ اِس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ انہیں اس کی ہدایت نہیں ملی ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وفاق کو نہ تو اٹارنی جنرل پر اعتماد ہے اور نہ ہی ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے کے آغا ، کمال اظفر اور ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پر ۔ آخر وفاق کو کس پر اعتماد ہے ؟ چیف جسٹس نے کہا کہ این آر او نظرثانی درخواست کی وجہ سے این آر او عمل درآمد کیس کی سماعت روکی گئی اور18 ویں ترمیم کا مقدمہ بھی ملتوی کیا گیا ۔ نظرثانی درخواست مسترد ہوئی تو این آر او عمل درآمد کیس کی سماعت فوراً شروع کردیں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ این آر او پارلیمنٹ میں بھیجا گیا، انہوں نے بھی اِسے ہاتھ نہیں لگایا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت اپنی مرضی کا وکیل مقرر کرنا چاہتی ہے ، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت نے آپ پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے ، اٹارنی جنرل نے وکیل مقرر کرنے کے لیے ایک دن کی مہلت مانگی اور بتایا کہ وہ عدالت کو اس بارے میں کل آگاہ کریں گے۔ عدالت نے مبینہ غلط بیانی کرنے پر ایڈووکیٹ آن ریکارڈ راجا عبدالغفور اور سالیسٹر جنرل ناصر علی شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کر دئے ۔ این آر او نظر ثانی کیس کی مزید سماعت کل ہوگی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.