29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
حارث اسٹیل ملز کو قرضوں کی اجرا کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش
جنگ نیوز - اسلام آباد…سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ سابق دور حکومت میں بنک آف پنجاب سے حارث اسٹیل ملز کو ہی بے قاعدہ قرض جاری نہیں ہوا بلکہ اربوں روپے کے دیگر قرض بھی جاری کئے جاتے رہے ، اس عمل میں بنک کے بورڈ ارکان بھی شامل ہیں ۔چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے حارث اسٹیل ملز قرض کیس کی سماعت کی ، عدالت کی ہدایت پر پنجاب کے ایڈیشنل آئی جی نے بنک سے قرض اجرا کی تیار کردہ تحقیقاتی رپورٹ پیش کی۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خواجہ حارث نے رپورٹ پڑھ کر بتایا کہ بنک آف پنجاب کے اعدودوشمار میں ہیراپھیری کی گئی ، پرانے قرض کی ادائیگی کے لئے قرض داروں کو نئے قرض دئے گئے ، اسٹیٹ بنک کو بھیجی کی گئی بنک رپورٹ میں بھی غلط بیانی کی گئی ۔ بنک خسارے میں تھا لیکن منافع ظاہر کرکے انعام و اعزاز لئے گئے ، آج عدالت میں سابق صدر پنجاب بنک ہمیش خان کابیان بھی پیش کیا گیا جس میں اس نے کہا ہے کہ اعدادوشمار غلط ہوں تو ذمہ داری تمام بورڈ ارکان پر ہے، خواجہ حارث نے کہا کہ ایک سابق چیف سیکریٹری رخصت پر گئے اور وہ پرویزالٰہی کی کمپنی میں کام کرتے رہے، انہی کو بعد میں بنک کے بورڈ کا چیئرمین بھی بنادیا گیا، خواجہ حارث نے کہا کہ چیئرمین نیب کے نہ ہونے سے حارث ملز کا ریفرنس ، نیب کورٹ میں داخل نہیں ہورہا، جبکہ بنک کے بورڈ ارکان نے اپنی کمپنی بنا کر6 ارب کا قرض بھی لے لیا ، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بورڈ کے لوگ خود کیسے قرض لے گئے، یہ ملک میں کیا ہورہا ہے ، اس رپورٹ کو عام کیا جائیگا۔