29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
رواں برس بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ممکن نہیں، وزیرپانی وبجلی
جنگ نیوز -
اسلام آباد…قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ بھارت نے پاکستانی دریاؤں پر 43 ہائیڈل پراجیکٹس مکمل کرلئے ہیں ، وزیرپانی و بجلی نے کہا ہے کہ رواں برس بجلی لوڈشیڈنگ ختم کرنا ممکن نہیں اور چار ماہ بعد بھی بجلی شارٹ فال ساڑھے3ہزار میگاواٹ سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔قومی اسمبلی کے آج اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت پانی و بجلی کی طرف سے بتایا گیا کہ گزشتہ3 برس میں لوڈ شیڈنگ سے بجلی کمپنیوں کو222 ارب89 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ، بجلی ضروریات کیلئے32 چھوٹے اور بڑے ڈیمز کی تعمیر واپڈا کو سپرد کردی گئی ہے جبکہ 240 ارب روپے لاگت اور106 میگاواٹ بجلی صلاحیت والے گومل زام ڈیم کی تعمیر فروری2015 میں مکمل ہوگی،ایوان کو بتایا گیا کہ دیامر بھاشا ڈیم کا سنگ بنیاد آئندہ2 ہفتوں میں رکھ دیا جائیگا، آئندہ5 برس تک کے ای ایس سی کو650 میگاواٹ بجلی فراہم کی جاتی رہے گی ، ایوان کو بتایا گیا کہ آئندہ ماہ بجلی شارٹ فال2 ہزار842 میگاواٹ، جون میں2ہزار526، جولائی میں2 ہزار198 اگست میں2 ہزار332 اور ستمبر میں3 ہزار516میگاواٹ رہنے کا امکان ہے ،وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے اسمبلی کو بتایا کہ ملک میں موبائل فون کی غیرشناخت شدہ سمز کو ایک ماہ بعد بند کردیا جائیگا۔