29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
بجلی کا شارٹ فال6ہزار میگاواٹ ہوگیا، عوام بے حال
جنگ نیوز -
لاہور…پیپکو اورپی ایس او کے درمیان تیل کی فراہمی کاتنازع حل نہیں ہوسکا جس سے بجلی کابحران ملک کی ریکارڈترین سطح پرپہنچ گیا اورشارٹ فال چھ ہزار میگاواٹ ہوگیاہے۔دن کے علاوہ رات کوبھی کئی کئی گھنٹے گرڈسٹیشن بند رہنے لگے ہیں جس سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوکررہ گئی ۔پیپکو کی طرف سے پی ایس او کی تیل کی مد میں پندرہ ارب روپے کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے پی ایس اونے تیس ہزارٹن روزانہ فرنس آئل کی سپلائی روک دی ہے جس سے متعدد پاورہاؤسز گذشتہ چارروز سے بند پڑے ہیں۔پیپکوکے ذمے پی ایس اوکی بقایاجات رقم دوسوارب روپے سے تجاوز کرگئی ہے جوکہ ملک میں بجلی کے بدترین بحران کی وجہ بنی ہے ۔بجلی کی پیداوار9500میگاواٹ جبکہ طلب ساڑھے پندرہ ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے ۔اس طرح پیپکو چھ ہزارمیگاواٹ شارٹ فال کاسامناہے اوریہ شارٹ فال قابو میں نہیں آرہا۔لاہور جیسے بڑے شہروں میں بارہ جبکہ ضلعی اورتحصیل ہیڈکوارٹرز میں18گھنٹے اوردیہات میں لوڈشیڈنگ کادورانہ20گھنٹے تک پہنچ گیاہے۔بجلی نہ ہونے سے گھریلو کے علاوہ صنعتی سرگرمیاں بھی ٹھپ ہوکررہی گئی ہیں ۔لاہور سمیت پنجاب کی تمام صنعتی تنظیموں نے لوڈشیڈنگ کے خلاف 26 اپریل سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرہوں کااعلان کیاہے۔لاہور کے علاقوں بسنت روڈ، گوالمنڈیی، ٹاؤن شپ،موچی گیٹ ،بندروڈ،ملتان روڈ،شاہدرہ جلو،کوٹ لکھپت میں رات بھر بجلی کی آنکھ مچولی جاری رہی ۔