12 اگست 2011
وقت اشاعت: 20:15
کراچی میں جلاؤ گھیراؤ اور فائرنگ،5افراد ہلاک،متعدد زخمی
جنگ نیوز -
کراچی…کراچی کو تشدد کی نئی لہر نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور شہر کے لوگ ایک بار پھر سہم گئے ہیں ، نامعلوم افراد نے دو بسوں، ایک منی بس اور ایک پک آپ کو آگ لگا دی ہے جبکہ ایک مسافر بس میں زندہ جل گیا اور متعدد زخمی ہوگئے۔ دوسری طرف فائرنگ کے واقعات میں 5 افراد ہلاک اور5زخمی ہوگئے۔کراچی میں افطار کے بعد سے حالات اچانک خراب ہوگئے جب نامعلوم افراد نے جہانگیر روڈ پر فائرنگ کر کے گھر سے باہر کھڑے پورٹ قاسم کے ملازم کو ہلاک کر دیا۔ کچھ ہی دیر بعد صدر کے علاقے ایمپریس مارکیٹ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ اور ٹائر جلا کر کاروبار بند اور ٹریفک معطل کرا دی۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اورحالات کو مزید بگڑنے سے بچا لیا۔ برہان سینٹر صدر میں پولیس نے شر پسند عناصر کے خلاف سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ نیپا چورنگی پر بھی نامعلوم افراد نے ایک منی بس کو آگ لگا دی، علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ جبکہ بن قاسم کے علاقے میں گکھر پھاٹک کے قریب نامعلوم افراد نے ایک سوزوکی پک اپ کو آگ لگا دی۔ ٹاور کے علاقے میں نامعلوم افراد نے ایک بس کو آگ لگا دی جس کے نتیجے میں ایک مسافر زندہ جھلس کر جان بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اورنگی ٹاوٴن میٹرو سنیما کے قریب بھی ایک بس کو آگ لگا دی گئی۔ ناظم آباد بورڈ آفس کے قریب نامعلوم افراد نے فائرنگ کی اور گاڑیوں پر پتھراوٴ کیا جبکہ گلستان جوہر رابعہ سٹی کے قریب بھی ہوائی فائرنگ سے کاروبار بند ہوگیا۔ گلستان جوہر میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا۔ پولیس کے مطابق اسٹیڈیم روڈ پر نجی اسپتال کے قریب مسلح موٹر سائیکل سواروں نے ایک گاڑی کو روکا اور چاروں سمت سے اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں شعیب نامی شخص موقع پر ہی ہلاک ہوگیاجبکہ فاروق سمیت دو افراد زخمی ہوئے جنہیں جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس حکام نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ ہے۔نارتھ کراچی کے علاقے آدم ٹاوٴن میں بی اماں پارک کے قریب مصطفی نامی شخص کو ہلاک اور کاشف کو زخمی کردیا گیا۔ جنہیں عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔گلشن اقبال میں یونیورسٹی روڈ پر نجی اسپتال کے قریب مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے سیاسی جماعت سے وابستہ 50 سالہ شخص کو قتل کردیا۔علاوہ ازیں ناظم آباد 2 نمبر میں نامعلوم افراد کی ہوائی فائرنگ سے کاروبار بندہوگیا۔ گگھڑپھاٹک کے قریب پک اپ کو جلایا گیا۔ادھر کراچی پولیس کے سربراہ سعود مرزا نے کہا ہے کہ ہڑتال سے پہلے کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلیے پولیس فورس کو چوکس کر دیاہے اور صدر کے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔