13 اگست 2011
وقت اشاعت: 8:40
کراچی:پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد9ہوگئی،50گرفتار
جنگ نیوز -
کراچی…افضل ندیم ڈوگر…کراچی میں بدامنی کی لہر پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ، تشدد اور دستی بموں کے حملوں میں ہلاک افراد کی تعداد نو ہوگئی ہے۔ آئیل ٹینکراور موٹر سائیکلوں سمیت ڈیڑھ درجن گاڑیاں جلا دی گئیں۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں جمعہ کی رات کو ہی شدید فائرنگ اور پر تشدد کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ جو آخری اطلاعات تک جاری تھا۔ گلشن حدید کے قریب لنک روڈ پر ایک آئل ٹینکر کو آگ لگا دی گئی۔ بنارس، قصبہ کالونی، کٹی پہاڑی اور پیر آباد تھانے کی حدود میں نامعلوم ملزمان نے 6 موٹر سائیکل نذر آتش کردی گئیں۔ شاہ فیصل کالونی، ایم اے جناح روڈ، گلشن اقبال میں نیپا چورنگی، صفورا چوک، گلبرگ، بنارس، ٹاور، کیماڑی اور دیگر علاقوں میں گاڑیاں نذر آتش کی کردی گئیں۔ کیماڑی میں مسافروں سمیت نذر آتش کی گئی منی بس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو ہوگئی ہے۔ مبینہ ٹاوٴن کے علاقے قائد اعظم کالونی میں دو گروپوں کے مابین شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں خاتون سمیت دو افراد زخمی ہوئے۔ ناظم آباد میں دستی بموں سے حملوں اور شدید فائرنگ سے تین افراد ہلاک متعدد زخمی ہوئے۔ پاک کالونی میں ایک کار سے دو افراد کی بوری میں بند تشدد زدہ لاشیں ملیں۔ سائٹ میں حبیب بنک چورنگی کے قریب سے فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاک ہوا۔ بن قاسم کے علاقے سے ایک شخص کی تشدد زدہ لاش ملی۔ قائد آباد میں داوٴد چورنگی پر فائرنگ سے ایک سیاسی کارکن موت کا شکار ہوا۔ ناظم آباد نمبر دو، سہراب گوٹھ، صدر اور دیگر علاقوں میں کشیدہ صورتحال کے باعث پولیس نے علاقے میں متعدد گھروں کی تلاشی لی اور گرفتاریاں کیں، آئی جی سندھ کے ترجمان کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں سے پچاس سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ جن کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ تاہم مختلف علاقوں میں فائرنگ اور تشدد کا سلسلہ نہ رک سکا۔ البتہ ناظم آباد 2 نمبر، پاپوش نگر، گول مارکیٹ اور گلشن اقبال کے مختلف علاقوں میں بعض افراد کی جانب سے دکانیں اور کاروبار کھلو دیا گیا۔