تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
23 اگست 2011
وقت اشاعت: 11:45

انا ہزارے کی ہڑتال آٹھویں روز میں داخل، لوک سبھا میں اپوزیشن کا ہنگامہ

جنگ نیوز -


نئی دہلی…جنگ نیوز… نئی دہلی کے رام لیلہ میدان میں سماجی رہنما انا ہزارے کی بھوک ہڑتال منگل کو آٹھویں روز میں داخل ہوگئی ہے۔انا کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ حکومت لوک پال بل پر بحث میں تاخیر سے کام لے رہی ہے۔رام لیلہ میدان میں ہڑتال میں مصروف انا ہزارے کے مطالبات کی آواز بھارتی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں گونجنا شروع ہوگئی ہے۔ اپوزیشن بھارتی جنتا پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کرپشن کے ایشو پر لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بحث کی جائے۔ لوک سبھا میں بی جے پی کے ارکان حکومت پر خوب برستے رہے جبکہ بی جے پی کی جانب سے انا ہزارے کی حمایت میں کل آل پارٹیز اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ ہڑتال کے آٹھویں روز بھی انا ہزارے کی حمایت کیلئے درجنوں افراد موجود ہیں۔ دوسری جانب لوگ بڑی تعداد میں بال بچوں سمیت رام لیلہ میدان میں آ کر انا ہزارے سے اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔ بعض شہری گا بجا کر اپنے انداز میں انا کی حمایت میں مصروف ہیں۔ انا ہزارے کو چیک کرنے والے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اگرچہ سماجی رہنما نے گزشتہ سات روز سے کچھ نہیں کھایا۔ ان کا وزن چھ سو گرام کم ہوا ہے لیکن ان کی حالت بہتر ہے۔ دوسری جانب انا ہزارے کی ساتھی کرن بیدی نے نئی دہلی کی جامع مسجد کے امام سید احمد بخاری سے ملاقات کی اور ان سے کرپشن کے خلاف تحریک کی حمایت کرنے کی درخواست کی ، سیداحمدبخاری نے گزشتہ روزبیان دیاتھاکہ اناہزارے اپنی تحریک کو سیکولر کہتے ہیں لیکن ان کی ٹیم میں کوئی مسلمان رکن موجود نہیں۔انہوں نے مسلمانوں کے لئے کچھ نہیں کیا ان سے اس بیان کے بعد کرن بیدی نے ان سے ملاقات کرکے حمایت طلب کی ہے۔ سماجی رہنماکا کہناہے کہ حکومت ہمارا مطالبہ ابھی تک تسلیم نہیں کررہی اور ہمیں مذاکرات کار نے بتایا ہے کہ حکومت مطالبات تسلیم کرنے میں پس وپیش سے کام لے رہی ہے۔کرپشن کے خلاف جنگ آزادی کی دورسری جنگ ہے مقاصد پورے ہونے تک ہڑتال جاری رہے گی۔ نئی دہلی میں انا ہزارے نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ8 دن بھوک ہڑتال کے بعد وہ ٹھیک ہیں ان کا وزن ساڑھے پانچ کلو کم ہوا ہے تاہم ان کی صحت فٹ ہے انہوں نے کہاکہ چند غداروں نے ہماری آزادی کو داؤ پر لگا یا اور ہمیں صحیح معنوں میں آزادی نہیں ملی کرپشن کے خلاف انکی جنگ آزادی کی دوسری جنگ ہے اور دیش کی خاطر انہیں موت آئی تو ان کی خوش قسمتی ہوگی انہوں نے کہاکہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ مقاصد پورے ہونے تک وہ ہڑتال جاری رکھیں گے دوسری طرف منموہن حکومت اناہزارے کی ہڑتال اور اپوزیشن کے بڑھتے ہوئے مطالبات کے دباؤ میں آگئی ہے اور اس معاملے کا حل نکالنے کیلئے تگ ودو میں ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.