3 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 19:19
سندھ، بلوچستان میں بارشیں، 41افراد جاں بحق، بیماریاں پھیلنے لگیں
جنگ نیوز -
کراچی...سندھ میں بارشوں کے بعدمختلف امراض پھیلنا شروع ہوگئے ہیں۔میر پور خاص کے سیم نالوں میں پانی کی سطح خطر ناک حد تک بڑھ گئی ہے۔تین روز کے دوران ملک بھر میں موسلا دھار بارشوں سے ہلاکتوں کی تعداد 41 ہوگئی ہے۔ سندھ کے بیشتر علاقوں میں بارشوں کے بعد بیماریاں پھیلنا شروع ہوگئی ہیں۔ سانگھڑ میں پیٹ کے امراض میں مبتلا بچوں اور خواتین سمیت ڈیڑھ سو سے زائد مریضوں کو سول اسپتال منتقل کردیاگیا ہے۔ضلع عمر کوٹ میں ملیریا اور پیٹ کے امراض میں مبتلا مریضوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ نوشہروفیروز کے علاقوں میں بارشوں کے بعد مختلف بیماریاں پھیل گئی ہیں۔پیٹ کے مرض میں میں مبتلا 15 بچوں کو سول اسپتال منتقل کردیاگیا ہے۔ضلع خیرپور کے علاقے فیض گنج کی علی نواز واہ اور پندرہو واہ نہروں میں 50 ،50 فٹ شگاف پڑنے سے 8دیہات اور وسیع اراضی زیر آب آگئی ہے۔ادھربارش کے بعدگاڑھی پل کے قریب گھر کی چھت گرنیسے 8سالہ بچہ جاں بحق اور 6خواتین زخمی ہوگئیں۔نارا اور پریالو میں سانپ ڈسنے کے واقعات میں خاتون سمیت 2افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ میر پور خاص کی دو بڑی آبادی والے حصے سیٹ لائٹ ٹاوٴن اور اولڈ سٹی ایریا کو ملانے والا ریلوے سب وے برج 6سے 8فٹ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ دیہی علاقوں میں سیم نالوں میں پانی کی سطح خطر ناک حد تک پہنچ چکی ہے۔سکھر کی تحصیل صالح پٹ میں گزشتہ دنوں ہونے والی موسلا دھار بارش اور پہاڑوں سے آنے والے پانی سے متعدد دیہات اور فصلیں زیر آب ہیں۔متاثرہ افراد کو انتظامیہ کی جانب سے کوئی مدد نہیں مل سکی ہے۔نواب شاہ کے سول اسپتال میں بارش کا پانی جمع ہونے کے باعث مریضوں ،ڈاکٹروں اور تیمار داروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔4روز سے کھڑیپانی کی وجہ سے اسپتال میں تعفن ،گندگی اور بدبو کے باعث سانس لینا بھی دوبھر ہوگیا ہے۔ضلع دادوکے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے مزید200 مکانات گرگئے جبکہ فصلوں کو نقصان پہنچا ہے اس کے علاوہ منچھر جھیل اور دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا ہے۔میہڑ کے گاوٴں گونگھو پیراور مشکول میں مکانات کی چھتیں گرنے سے 2 بھائیوں سمیت 3 بچے ہلاک ہوگئے۔ ضلع گھوٹکی اور اوباڑو میں متاثرہ خاندان موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں گرنے والے کچے مکانوں کے ملبے پر بے یار و مددگار امداد کے منتظر ہیں۔لاڑکانہ اور قمبر شہداد کوٹ میں بھی نشیبی علاقوں میں سڑکیں اور گلیاں پانی سے بھری ہوئی ہیں اس صورتحال سے شہری سخت ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔پنجاب کے علاقے رحیم یار خان کی تحصیل خانپور میں بارش کا پانی گلیوں اور سڑکوں پر جمع ہے جس کی نکاس کے لئے انتظامیہ کی جانب سے اب تک کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔