تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
3 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 19:19

وکی لیکس :ممبئی حملے میں ملوث افراد پاکستانی ہیں،نواز شریف

جنگ نیوز -


واشنگٹن...نومبر 2008 میں جب ممبئی پر حملہ ہوا تھا اس وقت پاکستان کے کئی حلقوں میں یہ تصور تھا کہ حملہ آور ہندوستان کے ہی تھے لیکن اس وقت پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ حملہ آور پاکستانی تھے۔روزنامہ ہندو میں شائع کیے گئے دسمبر 2008 میں لاہور کے امریکی قونصل خانے سے واشنگٹن بھیجے گئے ایک سفارتی مراسلے میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی سینیٹرز جان مکین اور لینڈسے گراہم کو بتایا تھا کہ انہوں نے ممبئی کے ایک حملہ آور کی ایک انڈین ٹی وی چینل سے فون پر بات چیت سنی تھی اور اگرچہ کالر خود بھارتی ہونے کا دعویٰ کر رہا تھا لیکن وہ ’اپنے لب ولہجے سے صاف طور پر پاکستانی تھا۔‘چھہ دسمبر کی اس ملاقات میں مسٹر نواز شریف نے امریکی وفد سے کہا تھا ’جو لوگ اس حملے میں ملوث ہیں وہ پاکستانی ہیں‘۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’اگر ہندوستان اس کا ثبوت فراہم کرے تو ہمیں ان عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنی چاہیے‘۔سفارتی مراسلے کے مطابق مسٹر شریف نے مزید کہا کہ ان کی جماعت نے ممبئی حملے کی سختی سے مذمت کی ہے اوراگر اس کا تعلق پاکستان سے ثابت ہوتا ہے تو لازمی طور پر ہمیں کارروائی کرنی چاہییے‘۔انہوں نے کہا ’جو لو گ ممبئی حملے کے ذمہ دار ہیں وہی عناصر پاکستان میں بھی سرگرم ہیں۔وکی لیکس نے لکھاہے کہ اس موقف کے ذریعے مسٹر شریف غالباً اپنے بارے میں امریکا کے اس تصور کی نفی کرنا چاہتے تھے کہ وہ شدت پسندوں کے حامی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ میں ان پر ایک پارٹنر کے طور پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔امریکی مراسلے کے مطابق انہوں نے امریکی سینیٹرز کو یہ بھی بتایا تھا کہ ان کی جماعت نے دہشتگردی کے سوال پر حکمراں پی پی پی کے ساتھ پوری ذمے داری کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔روزنامہ ہندو نے ان خفیہ سفارتی مراسلوں کی تفصیل دیتے ہوئے لکھا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف بظاہر اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ملک کے مستقبل کے رہنما کے طور پر اپنی پو زیشن حاصل کرنے کے لیے انہیں امریکا کے مثبت تصور میں رہنا ہوگا۔مسٹر شریف نے بات چیت میں اپنی وزارت عظمیٰ کے دور کا ذکر کیا اور یاد دلایا تھا کہ وزیر اعظم کے طور پر انہوں نے خلیجی جنگ میں پاکستان کی حمایت کی پیشکش کی تھی اور افغانستان میں انتہا پسند عناصر سے نمٹنے کے سوال پر امریکی صدر بل کلنٹن سے مفصل تبادل خیال کیا تھا۔




متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.