3 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 19:19
سندھ میں مزید بارش،فصلیں تباہ، لوگ امداد کے منتظر
جنگ نیوز -
کراچی …ہفتے کی شام سندھ کے مختلف شہروں میں مختصر وقفے کے بعد ہونیوالی طوفانی بارش نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی،مختلف اضلاع میں پانی میں گھرے متعدد شہر وں اوردیہات میں زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی،تین دن کے دوران ملک بھر میں موسلا دھار بارشوں سے ہلاکتوں کی تعداد 45 تک جا پہنچی ہیں۔بدین شہر اور گردونواح میں ہفتے کی شام سے شروع ہونیوالی طوفانی بارش کا سلسلہ ابھی تک وقفے وقفے سے جاری ہے۔بارش کے دوران تباہ حال شہرکی اہم سڑکوں سمیت بیشترعلاقے مکمل طور پربارش کے پانی کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔نواب شاہ میں تیز بارش نے پہلے سے متاثر لوگوں کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے اور ان کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔سکھرکی تحصیل صالح پٹ میں موسلا دھار بارش سے مزید متعدد دیہات زیر آب آگئے، کھڑی فصلیں تباہ اور کچے مکانات گر گئے ۔طوفانی بارشوں کے باعث خیرپورکے علاقے کوٹ ڈیجی اور نارا کے بیشتر علاقے تاحال زیر آب ہیں،،فیض گنج کی علی نواز واہ اور پندرہو واہ نہروں میں 50،50 فٹ شگاف پڑنے سے 8دیہات سمیت وسیع اراضی زیر آب آگئی،،محرابپور میں تیز ہواوٴں کے ساتھ بارش کے دوران گھروں کی چھتیں اور سائن بورڈ گر گئے۔دادو میں حالیہ بارشوں کے بعد منچھر جھیل سمیت دادو مورو پل کے مقام پر دریائے سندھ میں بھی پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے،بارش کی وجہ سے ضلع بھر میں 15 سو سے زائد کچے مکان گرگئے ہیں اور ہزاروں افراد نے ریلیف کیمپوں میں پناہ لی ہوئی ہے،ڈی سی او دادو کے مطابق حالیہ بارشوں سے 20 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی پر کھڑی کپاس، گنا اور سبزی کی فصل تباہ ہوئی ہے، ٹھٹھہ اورجاتی میں بھی ہزاروں ایکڑ اراضی پر کھڑی چاول، گنا، کپاس اور سبزی کی فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔میرپورخاص میں بارش کی وجہ سے ریلوے سب وے برج 6سے 8فٹ پانی میں ڈوبا ہوا ہے،،نوکوٹ کے قریب سیم نالے کا پانی اوور ٹاپ ہونے کے بعد شہر میں داخل ہوگیا، شہر میں کشتیاں چل رہی ہیں،سانگھڑ اور عمرکوٹ میں پیٹ،جلد اور ملیریا کے امراض میں مبتلا سیکڑوں افراد کو اسپتالوں میں لایا گیا ہے،جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔نوشہروفیروز کے علاقے مورو میں قائم محکمہ خوراک کے گودام میں کھلے آسمان تلے پڑی گندم کی ہزاروں بوریاں بھی بارش کی وجہ خراب ہوگئی ہیں۔