4 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 4:32
بینظیرنے آئندہ ایٹمی دھماکوں کیلئے دباوٴنہ ڈالنے کی حامی بھری،وکی لیکس
جنگ نیوز -
بینظیرنے آئندہ ایٹمی دھماکوں کیلئے دباوٴنہ ڈالنے کی حامی بھری،وکی لیکس
واشنگٹن…سابق وزیراعظم بینظیربھٹونے ملک کے ایٹمی دھماکوں سے پہلے امریکی انتظامیہ پر واضح کردیاتھاکہ وہ آئندہ ایٹمی دھماکوں کے لیے حکومت پر دباوٴ نہیں ڈالیں گی ۔یہ دعوی پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے دو دن پہلے26 مئی 1998 کو امریکی سفارتخانے کی جانب سے لکھے گئے ایک مراسلے میں کیاگیاہے۔ وکی لیکس کی جانب سے جاری کردہ اس مراسلے میں بینظیر بھٹو سے امریکی سفارتخانے کے پرنسپل آفیسر کی25مئی کو ہوئی، ملاقات کا احوال بیان کیا گیا ہے۔بینظیرسے جب دریافت کیا گیا کہ انہوں نے تو ایٹمی دھماکوں کے حق میں ملک بھر میں مظاہروں کیلئے کال دے رکھی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ آیندہ پیپلزپارٹی ایٹمی دھماکوں کا مطالبہ نہیں کریگی۔ امریکی پرنسپل سیکرٹری نے دعویٰ کیا کہ ملاقات میں بینظیر بھٹو نے کہا کہ وہ اب حکومت پر ایٹمی صلاحیت کے تجربے کیلئے زور نہیں دیں گی تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب پیپلزپارٹی اپنی تنقید کا مرکز نواز شریف حکومت کی فیصلہ نہ کرپانے کی صلاحیت اور بدانتظامی کو بنائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی دھماکوں کا ایک مناسب وقت رہا ہوگا تاہم اس مقام پر ایٹمی دھماکے پاکستان کے مفادات کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔ اس ملاقات کے بعد اعتزاز احسن نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ 24 مئی کو بینظیر بھٹو نے ” یو ٹرن “ لے لیا ہے۔31 اگست 1998 کے ایک اور مراسلے کے مطابق بینظیر بھٹو نے اسی معاملے پر امریکی اہلکار سے گفت گو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایٹمی دھماکوں کا ایک مثبت اثر یہ ہوا ہے کہ ان دھماکوں نے امریکا کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اس خطے پر زیادہ توجہ دے۔