4 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 7:51
سندھ میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی،50افراد جاں بحق
جنگ نیوز -
کراچی...سندھ میں ہونے والی طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی ہے۔ مختلف حادثات میں بچوں اور خواتین سمیت اب تک 50 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ بدین میں ایل بی او ڈی سیم نالے میں پانی کی سطح انتہائی خطرناک حد تک بلند ہوگئی ہے۔بدین شہراور گردونواح میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، محکمہ آبپاشی ذرائع کے مطابق حالیہ طوفانی بارشوں کے بعد بدین کے قریب ایل بی او ڈی سیم نالے میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ جانے کے بعد روشن آباد اور اس سے ملحقہ علاقوں سے پاک فوج کے جوانوں نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کردیا ہے،دادو میں موسلادھار بارش کے بعد منچھر جھیل اور دادو مورو پل کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، بارشوں سے کچے مکانات گرنے کے باعث ہزاروں افراد نے ریلیف کیمپوں میں پناہ لے لی ہے،شدید بارشوں کے نتیجے میں تحصیل جوہی کے گوٹھ ابراہیم چانڈیو، فضل لوند اور لعل بخش لوند زیر آب آجانے کے بعد لوگوں نے چارپائیوں کو کشتی بنالیا اور اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی طرف چلے گئے۔میرپورخاص میں یونین کونسل کھان کے قریب سیم نالے میں ایک اور شگاف پڑنے سے مزید 3 دیہات زیر آب آگئے، جبکہ ریلوے سب وے برج 6سے 8فٹ پانی میں ڈوبا ہوا ہے،نوکوٹ کے قریب سیم نالے کا پانی شہر میں داخل ہوجانے کے بعد کشتیاں چلانی پڑگئیں،سانگھڑ اورعمرکوٹ میں پیٹ،جلد اور ملیریا کے امراض میں مبتلا خواتین اور بچوں سمیت سیکڑوں افراد کو اسپتالوں میں لایا گیا ہے۔طوفانی بارش کے باعث خیرپورکے علاقے کوٹ ڈیجی اور نارا کے بیشتر علاقے تاحال پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، فیض گنج کی علی نواز واہ اور پندرہو واہ نہروں میں 50 ،50 فٹ شگاف پڑنے سے 8دیہات اور وسیع اراضی زیر آب آگئے،نوشہروفیروز کے علاقے مورو میں قائم محکمہ خوراک کے گودام میں کھلے آسمان تلے پڑی گندم بھی بارش کی نظر ہوگئی ہے۔