4 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 12:6
پاکستان میں امریکی کردارخطرنا ک ہے تبدیل کیا جائے،عمران خان
جنگ نیوز -
واشنگٹن…عمران خان نے پاکستان میں امریکی کردارکو خطرنا ک قراردیتے ہوئے اسے تبدیل کرنے پر زوردیا۔وکی لیکس کے مطابق امریکی کانگریس کے ایک وفد نے اسٹیفن لنچ کی قیادت میں عمران خان سے گزشتہ سال 29جنوری کواسلام آباد میں ملاقات کی۔ملاقات میں عمران خان پاکستان میں امریکی کردارپر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے خطرنا ک قراردیا اور اسے تبدیل کرنے پر زوردیا۔عمران خان نے امریکا کے سابق نائب وزیر خارجہ جان نیگروپونٹے اور سابق معاون وزیر خارجہ رچرڈباوٴچر پر الزام لگایا کہ دونوں نے این آراو کی توثیق اس لیے کی تھی تاکہ بے نظیر بھٹو کو پاکستان واپس لایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ این آر او کی ہی دین ہے کہ ملک کا سب سے بڑ مجرم آج اقتدارکے ایوان میں موجود ہے ۔عمرن خان کا کہنا تھا کہ جمہوری عمل کی حمایت کے بجائے زرداری کی حمایت کرکے امریکا نے وہی غلطی دہرائی ہے جواس نے مشرف کا ساتھ دے کر کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ معاملات طے کرنے کیلئے امریکا کوزرداری کے بجائے کسی با اعتماد شخص کی حمایت کرنی چاہیے۔ ۔موجودہ حکومت امریکا کو پاکستان کے عوام سے مزید دورکردے گی۔پاکستان کے لیے جاری آٹھ سالہ امریکی امداد کے باوجود 80فی صدپاکستانی آج بھی امریکا کو پاکستان کے لیے بھارت سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ڈرون حملے نوجوانوں میں انتہا پسندی کے جذبات ابھاررہے ہیں۔عمران خان نے الزام لگایا کہ سوات میں پاک فوج ماورائے عدالت قتل، اجتماعی قتل اورکچھ دیہات میں جنسی بنیاد پر توہین کی بھی مرتکب ہوئی ہے۔امریکا کو چاہیے کہ وہ دوسرے نقطہ ہائے نظر بھی معلوم کرے۔پاکستان کی موجودہ حکومت کو امریکی ڈالروں نے اندھا کررکھا ہے اور اسے نہیں معلوم کہ زمینی حقائق کیا ہیں۔