8 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 3:55
سندھ کے مختلف علاقوں میں بارشیں،جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہوگئی
جنگ نیوز -
نوکوٹ. . . . .. . . .سندھ کے مختلف علاقوں میں بدھ کے روز بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ مختلف واقعات میں جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہوگئی۔ نوکوٹ میں پاک فوج اور پاک بحریہ کے جوان متاثرین کی امداد کے لئے پہنچ گئے۔ بدین میں زیرو پوائنٹ کے قریب ایل بی او ڈی سیم نالے سے نکلنے والے سیلابی ریلوں کی وجہ سے مزید سو سے زائد دیہات زیر آب آچکے ہیں۔ تباہ کن بارشوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد ایک ماہ سے خیموں میں بے کسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔جامشورو کی تحصیل مانجھند اور سیہون میں 18 بڑے پول گرنے سے گزشتہ نو روز سے بجلی کی فراہمی معطل ہے،جھانگارا باجارا سمیت مزید 80 دیہات اور سیکڑوں ایکڑ پر فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔بھیت جبل کے قریب 7 رابطہ پل بہہ جانے کے بعد تیل اور گیس نکالنے والی غیرملکی کمپنی کی زیر نگرانی آئل فیلڈ سمیت متعدد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہے۔صدر آصف علی زرداری بدھ کی شام اسلام آباد سے نواب شاہ پہنچے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کے ہمراہ ضلع شہید بے نظیرآباد کے متاثرہ علاقوں کا فضائی معائنہ کیا۔ نوشہروفیروز میں پْھل کے قریب بااثر افرادنے اپنی زمینیں بچانے کے لیے سیم نالوں میں شگاف ڈال دیئے جس سے 20 سے زاید دیہات زیر آب آگئے ۔مسلسل بارش اور سیم نالوں میں طغیانی کے بعد نوکوٹ اور نواحی دیہات سے پاک فوج اور بحریہ کے جوانوں نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کردیا ہے۔ڈسٹرکٹ جیل سانگھڑ کی چھ بیرکوں کی چھت بھی بارشوں سے بوسیدہ ہوکر گر گئی۔ تاہم بیرکوں میں موجود قیدی محفوظ رہے۔