تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
8 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 10:40

امن و امان کی بنیاد پر مارشل لاء لگانے کا راستہ بند کر دیا، چیف جسٹس

جنگ نیوز -


کراچی . . . کراچی کی صورتحال پر سپریم کورٹ ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری چیف جسٹس نے کہا کہ جب بھی مارشل لاء لگا امن و امان کی خراب صورتحال کو بنیاد بنایا گیا۔ ہم نے اب یہ راستہ بند کیا ہے امن و امان کو ہمیں خود سنوارنا ہے۔ ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا کہ دستور کے آرٹیکل 184 کی شق 3 کے تحت سپریم کورٹ صرف گائڈ لائن بھی دے سکتی نہ تو شہادتیں ریکارڈ کرسکتی اور نہ ہی کسی کو سزا دے سکتی ہے۔ عدالت کے سامنے دو اہم نکات ہیں ۔تشدد کے واقعات کی تحقیقات کیسی ہوں کہ نتیجہ مثبت نکلے اور مستقبل ان واقعات کو روکا جاسکے۔ آرٹیکل 184 کے اختیارات سے متعلق سپریم کورٹ نے نواز شریف کیس میں طے کردیا ہے کہ نوعیت کے لحاظ سے ہائی کورٹ کے 199 کے اختیارات کی طرح ہیں۔ ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہ اکہ دستور کے آرٹیکل 184 کی شق 3 کے تحت سپریم کورٹ صرف گائڈ لائن دے سکتی ہے، نہ تو شہادتیں ریکارڈ کرسکتی اور نہ ہی کسی کو سزا دے سکتی ہے۔ چیف جسٹس کے ریمارکس میں کہا کہ آپ تجویز کریں کہ سیاسی افراد سے آزاد اور غیر جانبدار تحقیقاتی ایجنسی کسے بنائی جائے۔ دو دنوں میں چار لاشیں مل چکی ہیں الزامات اور جوابی الزمات لگ رہے ہیں۔ بلوچ اتحاد تحریک کے وکیل جمیل وردک نے ٹارچر سیل سے بچ کر آنے والے 16 افراد کی فہرست سپریم کورٹ میں پیش کردی اور کہا کہ یہ ان 18 افراد سے مختلف ہیں جنہیں پولیس نے بازیاب کرایا۔جمیل وردک نے عدالت کو مزید بتایا کہ یہ لوگ پولیس کے پاس گئے لیکن انکی ایف آئی ار درج نہیں کی گئی۔ چیف جسٹس کیاستفسار پر فہرست میں ان افراد کے اغوا کی تاریخیں درج نہیں کی گئی ہیں۔ چیف جسٹس نے اس پر کہا کہ ہم یہاں شہادتیں قلمبند نہیں کررہے اگر آپ کے پاس کوئی شہادت ہے تو ذاتی حلف نامے کے ساتھ جمع کرادیں۔ ایس ایس پی ساوتھ نعیم شیخ نے عدالت میں بیان میں کہا کہ کل شام کارساز سے اغوا ہونے والے طالبعلم محمد شریف کی ایف آئی ار درج ہوئی ہے۔ جسٹس انوار ظہیر جمالی کے ریمارکس یہ عام پریکٹس ہوگئی ہے کہ شادی یا دیگر تقریب سے واپس آنے والوں کے زیوارات اور موبائل وغیر چھین لیے جاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ حکم جمیل وردک کی جانب سے دی جانے والی فہرست سمیت جتنے لوگ شہر سے اغوا ہوئے اس کی تفتیش کرکے معلوم کریں انہیں کس نے اغوا کیا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ جن 44 افراد کی لاشوں کی جمیل وردک نے لسٹ دی ہے کیا ان کے بارے میں کوئی تفتیش ہوئی۔ پولیس حکام کا عدالت میں جواب لاش ملنے پر مشکل ہوتا ہے کہ کس سے تفتیش کی جائے۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ یہ کیا ہو رہا ہے لاش ملنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ڈی جی رینجرز صاحب کہ رہے تھے ہم سب ٹھیک کردیں گے لیکن بوری بند لاشیں ابتک مل رہی ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.