10 جنوری 2012
وقت اشاعت: 18:58
قیام امن کیلئے کوئٹہ کے پہاڑوں پر ایف سی تعینات کردی، رحمان ملک
جنگ نیوز -
اسلام آباد....وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہاہے کہ بلوچستان میں امن کے قیام کے لئے کوئٹہ کے پہاڑوں پر دوبارہ ایف سی تعینات کردی ہے اور وہ بغاوت کرنے والوں کو پھرقومی دھارے میں آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے آغاز حقوق بلوچستان کے تحت عارضی بھرتی ہونے والے 5ہزار بلوچی ملازمین کو 20جنوری سے مستقل کرنے کا اعلان کردیا۔ اسلام آباد میں آغاز حقوق بلوچستان پر عملدرآمد کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرنے کے بعد وزیرداخلہ رحمان ملک نے میڈیا کو بتایاکہ بلوچستان کے سیاسی رہنماوٴں اور عوام کے مطالبے پر 8 کلومیٹر کوسٹل ہائی وے آر سی ڈی پر ایف سی اور کوسٹ گارڈ کی چیکنگ ختم کردی گئی ہے جبکہ اسمگنگ روکنے کا ٹاسک کسٹمز اتھارٹی کو دے دیا گیا۔ ایف سی صرف بلوچستان کی حکومت کی ڈیمانڈ پر ہی تعینات کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ وفاق میں ڈیپوٹیشن پر آنے والے بلوچ سرکاری اہلکاروں اور افسران کو رولز سے ہٹ کر مستقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ وفاقی محکموں کے ایڈیشنل سیکریٹریوں پر مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کرکے آغاز حقوق بلوچستان کی تمام شقوں پر عمل کرایا جائے گا۔ بلوچستان میں تیل نکالنے والی کمپنیوں سمیت جتنی بھی ملکی و غیرملکی کمپنیاں کام کررہی ہیں وہ اپنی آمدن میں 10 فی صد علاقے کی ترقی پر خرچ کرنے کی پابند ہوں گی۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ دشمن بلوچستان کے حالات خراب کرنا چاہتا ہے لیکن جو پاکستانی پرچم کو سلام کرے گا ان سے ضرور بات چیت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سردار عطامینگل پہاڑوں پر جانیوالوں کو واپس لانے کیلئے حکومت سے بات کریں۔