5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43
کراچی سٹی کورٹ میں پولیس کی نفری بڑھا کر 50کرنے کا فیصلہ
جنگ نیوز -
کراچی…سٹی کورٹس کے احاطے سے4 خطرناک دہشت گردوں کے فرارہونے کے واقعہ کے دن عدالت کے اطراف موبائل گشت اور احاطے کے مختلف دروازوں پر2 درجن پولیس والے تعینات تھے، اس کے باوجود4 قیدی فرار ہوگئے، جس کے بعدپولیس نفری بڑھا کر50 کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ سٹی کورٹ تھانے کو ایک مرتبہ پھر سٹی کورٹس کے احاطے میں منتقل کیا جا رہا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ہفتہ19جون کو علاقے کے موبائل گشت پر اے ایس آئی انعام الحق، سپاہیوں شوکت، صاحبزادہ اور ڈرائیور سرفراز کی ڈیوٹی تھی، سیشن کورٹس جنوبی، مرکزی گیٹ نمبر1اور2 پر4 سپاہیوں گلزار احمد، علی اکبر، صغیر احمد اور یامین تعینات تھے، سٹی کورٹس لاک اپ والے گیٹ پر سپاہیوں ریاض، داوٴد اور حنیف بلوچ کی ڈیوٹی تھی، سٹی کورٹس تھانے والے گیٹ پر سپاہی یاسین، خالد بشیر، نسیم، ریاض اور ہیڈ کانسٹیبل شاہین پروین ڈیوٹی اداکر رہی تھیں، سٹی کورٹس کینٹین نمبر4 والے گیٹ پر سپاہی غفران اور آصف تعینات تھے، ججز ایسٹ گیٹ پر سپاہی اشرف ڈیوٹی کر رہا تھا، چھوٹے گیٹ پر سپاہی اسلم، لال مسجد والے گیٹ پر سپاہی فاروق اور راجہ ریاض روڈ پر سپاہی فہیم اختراور سپاہی عزیز انور ڈیوٹی دے رہے تھے، چھبا اسٹریٹ پر سپاہی کلیم اور سپاہی طارق گشت پر تھے، جبکہ ٹریژری آفس اور ڈاک خانہ پارکنگ پر سجاد احمد تعینات تھا۔ان سیکورٹی انتظامات کے باوجود دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔سیکورٹی ماہرین نے طویل رقبے میں قائم سٹی کورٹس کی حفاظت کے انتظامات کو ناکام قرار دیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق اب سٹی کورٹس کی حفاظت پر مامور نفری کی تعداد بڑھا کر50 کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ تھانہ سٹی کورٹ کو بھی اس کی سابقہ عمارت میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل تھانہ سٹی کورٹ کو بھی رسالے تھانے کی عمارت میں منتقل کر دیا گیا تھا، جبکہ سٹی کورٹس کے احاطے میں محض پولیس چوکی قائم تھی۔