5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43
پشاور، منی فلم انڈسٹری نے روایتی سینماؤں کو خاتمے کے قریب پہنچا دیا
جنگ نیوز -
پشاور…سینٹرل مانیٹرنگ…چند سال قبل پشتو سنیما پاکستانی فلم انڈسٹری کا سب سے فعال سیکٹر تھا مگر سیکورٹی وجوہات نے خیبر پختونخواہ میں پشتو سنیما کلچر کوخاتمے کے قریب پہنچادیا ہے اور روایتی صعنت کی جگہ منی فلم انڈسٹری نے اس کی جگہ لے لی ہے۔پشاور کے نشتر آباد میں Mini-Films کی180دکانیں قائم ہیں اور پہلی بار ایسی فلمیں بنانے والے فرمان عمرزئی کا کہنا ہے کہ عام طور پر تیار کی جانے والی فلم کی نسبت انتہائی کم وقت اور مختصر ترین بجٹ سےMini-Films بنائی جاسکتی ہے جس پر عام فلموں کے 70لاکھ کے برعکس صرف ایک لاکھ 80ہزار سے 3لاکھ 50ہزار تک لاگت آتی ہے اور جس کے لیے 10سے 15اداکاروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ منی فلم کو محض ایک ماہ کے اندر ایڈیٹنگ اور اس میں میوزک شامل کرکے اسے ایک مکمل فلم کی شکل میں مارکیٹ میں پیش کردیا جاتا ہے۔عمر زئی کے مطابق پشاور کے نشتر آبادمیں تیار ہونے والی یہ Mini-Films کراچی، مردان، سوات، کوئٹہ، کابل ، جلال آباد ، دبئی اورحتٰی کہ لندن کی مارکیٹوں میں پشتو فلموں کی جگہ لے چکی ہیں۔ سرکاری سطح پر کوئی ثقافتی پالیسی نہ ہونے کے سبب پشاور میں تیار ہونے والی منی فلمیں افغانستان میں تیزی سے مقبول ہورہی ہیں اور فلمسازوں کے مطابق پاکستان پشتو فلموں کی ایک بڑی مارکیٹ سے محروم ہوتا جارہا ہے۔نشتر آباد میں قائم Mini-Films کے ایک دکاندار کا کہنا ہے کہ وہ اس طرح کی فلموں کی روزانہ500سے 600 سی ڈیز فروخت کرتے ہیں۔انہیں اس بات پر فخر ہے کہ انہوں نے بالی وڈ اور ہالی وڈ فلموں کو مارکیٹ سے آؤٹ کردیا ہے مگر اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ اس طرح کی فلموں کے لیے بھی باقاعدہ طور پر ایک سنسر پالیسی کی ضرورت ہے لیکن وہ اس بات پر مطمئن ہیں کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں وہ ان کی دانست میں ٹھیک ہے۔