5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کیخلاف دستخطی مہم
جنگ نیوز -
پیرس …رضا چوہدری /نمائندہ جنگ …مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف دستاویز پر ہزاروں افراد نے دستخط کر دیئے۔ کشمیرکونسل ای یوکے چیئرمین اور انٹرنیشنل کونسل فارہومین ڈیوپلمنٹ (آئی ایچ سی ڈی)کے سربراہ علی رضاسید کی طرف سے جاری مہم میں برسلزمیں دوہزار سے زائد افرادنے کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف دستاویزپردستخط کئے۔ یہ مہم کشمیرکونسل ای یونے شروع کی ہے جس کا مقصدکشمیرمیں جاری تشددکے خلاف یورپی رائے عامہ ہموار کرنا اور یورپ بھر سے ایک ملین افرادکے دستخط جمع کرنا ہے۔ مہم کے آغازپر بلجیم کے دارالحکومت برسلزمیں یورپین پارلیمنٹ کے باہر ایک روزہ کیمپ لگایاگیا اور اس طرح عام لوگوں سے کشمیرانسانی حقوق کی پامالی کے خلاف دستخط لیے گئے ۔ علی رضاسید نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ اس مہم کا نعرہ ہے، ”کشمیرمیں انسانی حقوق کی ناقابل برداشت خلاف ورزیاں“ ۔ بدھ کے روز دستخط کرنے والوں میں مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے جنھوں نے دستخط کرکے کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اپنے جذبات کااظہارکیا۔ اگلے مرحلوں میں بلجیم کے بعد ہالینڈ میں دستخط لیے جائیں گے اور اس طرح دیگر یورپی ممالک میں گھوم پھرکر ایک ملین افراد کے دستخط جمع کئے جائیں گے۔ علی رضاسیدکاکہناہے کہ اندازاً یہ مہم آئندہ ایک سال تک چلے گی اور اس کے بعد یہ ایک ملین دستخط یورپی پارلیمنٹ کو پیش کردیئے جائیں گے۔ علی رضاسید کے مطابق، اس مہم کے دوران بالترتیب یورپ کے مختلف ملکوں میں کیمپ لگائے جائیں گے تاکہ بھارت کے زیرتسلط کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دنیاکے سامنے آشکارکیاجائے۔ بھارتی فوج آئے دن کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے اور ہزاروں کی تعدادمیں کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت واقعات میں ماردیاگیاہے۔30اپریل کو مچل کے علاقے میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں تین کشمیری نوجوان محمد شفیع، ریاض احمداور شہزاد احمدجعلی مقابلے میں شہیدہوئے۔ اسی طرح اسی ماہ کے سری نگرکے علاقے میں ایک 16سالہ نوجوان طالب علم طفیل احمد پولیس کے ہاتھوں شہید ہوگیا۔ شوپیاں میں کچھ عرصہ قبل دو کشمیری خواتین کی عصمت دری کی گئی اورانھیں بے دردی سے قتل کردیاگیا۔حالیہ سالوں کے دوران کشمیرمیں بے شمار بے نام قبریں دریافت ہوئی ہیں جن میں ہزاروں کی تعدادمیں بے گناہ مارے جانے والے کشمیری دفن ہیں جنھیں جعلی مقابلوں یا قید کے دوران شہید کردیاگیا۔ وادی کشمیرمیں کالے قوانین نافذ ہیں اور بہت سے کشمیری تحریک آزادی کی پاداش میں جیل میں ہیں۔بھارت اگر مسئلہ کشمیرکے پرامن حل میں سنجیدہ ہے تو وہ وادی کشمیرسے اپنی فوجیں واپس بلائے ، حریت پسند رہنماؤوں اور کارکنوں کو رہاکرے اور کالے قوانین ختم کرکے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث فوجیوں کو سزادے۔