5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43
وفاقی افسران این ایف سی کے معاملے پر رکاوٹیں ڈال رہے ہیں،قائم علی شاہ
جنگ نیوز -
کراچی . . . وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہاہے کہ وفاقی افسران این ایف سی اور سیلز ٹیکس کی وصولی کے معاملے پر رکاوٹیں ڈال رہے ہیں،لیکن قانو ن پاس کرکے خدمات پر سیلز ٹیکس خود وصول کریں گے۔سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ بحث کے آخری روز اپنی تقریر میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ خدمات پر سیلز ٹیکس صوبوں کو دیے جانے پر وفاقی افسران ناخوش ہیں اور رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ این ایف سی کے مسودے میں وفاقی افسروں نے صدر اور وزیر اعظم کو بھی دھوکا دے دیا اور صدر سے دستخط کرالئے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بڑی مشکل سے جی ایس ٹی آن سروسز کا معاملہ حل کرایا، اپنے اربوں روپے کسی صورت نہیں چھوڑیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بتادیا سندھ خدمت پر سیلز ٹیکس وصول کر سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ قانون پاس کرکے صوبہ کلیکشن کرے گا، وفاق اب یہ نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہاکہ وفاق نے سیلز ٹیکس کا حصہ آبادی کی بنیاد پر دیا، یہ بھی نا انصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال مزید چالیس ہزار بے روزگاروں کو نوکریاں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 60 ہزار نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تربیت دی، 27 فیصد نے روزگار حاصل کیا۔ قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ عوام کی توقعات بہت زیادہ ہیں ہم ان کو ریلیف دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پینشن میں پہلے 6 ارب روپے سپلیمنٹری بجٹ کے تحت اضافی دئیے گئے ہیں۔اجلاس میں صوبائی وزیر اوقاف عبد الحسیب کا کہنا تھا کہ جنوری 2009 سے جون 2010 تک متحدہ قومی موومنٹ کے 143 کارکنان کو شہید کردیا گیا،جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کراچی میں لسانی اور مذہبی منافرت پر تصادم ختم ہوگیا ہے اور اب پلاٹوں پر تنازعے اور قتل ہورہے ہیں۔