تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43

قومی اسمبلی میں نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کی منظور کا عمل جاری

جنگ نیوز -
اسلام آباد . . . قومی اسمبلی میں نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کی منظوری کا عمل جاری ہے۔ آج اسمبلی میں فنانس بل پیش کرکے اس پر بحث کا آغاز کیا گیا جس کے دوران اپوزیشن نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ ن لیگ کی طرف سے پٹرولیم لیوی میں 50 فیصد کمی کی تجویز ایوان میں رائے شماری کے دوران مسترد کر دی گئی۔وزیرخزانہ نے وفاقی بجٹ کا فنانس بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تو مسلم لیگ ن کے ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے زاہد حامد نے کہا کہ پٹرولیم پر لیوی کم کی جائے جبکہ کسٹمز ایکٹ 99 میں ترامیم ہونی چاہیئں۔ انہوں نے ٹرانزٹ ٹریڈ پر جرمانے کو تین گنا کرنے کی تجویز دی جبکہ چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی مراعات اور صوابدیدی گرانٹس میں اضافے کو غلط قرار دیا۔ سردار ایاز صادق نے ایف بی آر پر چیک اینڈ بیلنس کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جی ایس ٹی 12 فیصد ہونا چاہیئے اور ریفنڈ کلیم جلد ادا کئے جانے چاہیئں۔ رانا تنویر نے ایف بی آر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس ادارے میں کرپشن اور سودے بازی ہو رہی ہے۔ انوشا رحمان نے کہا کہ آئین کے تحت فنانس بل کے ذریعے ٹیکسز میں ترامیم نہیں کی جا سکتیں۔عالمی مالیاتی اداروں کی ہدایات پر پارلیمنٹ کی خود مختاری کو متاثر نہ کیا جائے۔ پرویز ملک نے کہا کہ ٹرن اوور صرف منافع کی صورت میں لیا جائے اور اس کی شرح ایک فیصد کرنا نا انصافی ہے۔اس موقع پر وفاقی وزیر قانون و انصاف ڈاکٹر بابر اعوان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت حکومت فنانس بل کے ذریعے ٹیکسز میں ترامیم کا اختیار رکھتی ہے اور اسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ایوان میں فنانس بل 2010کی پہلی خواندگی مکمل ہو گئی جبکہ دوسری خواندگی میں بل کی کلازز کے تحت منظوری دینے کا عمل جاری ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.