5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43
انتہا پسندی،پاکستان اور افغانستان کو مدد فراہم کی جائے گی،جی ایٹ
جنگ نیوز -
ہنٹس ویل…دنیا کے آٹھ بڑے صنعتی ممالک نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف لڑنے کیلئے مل کرکام کرنے کا عزم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان اور افغانستان کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔ جی ایٹ نے افغان صدر کرزئی کی طالبان کے اعتدال پسند عناصر کے ساتھ امن معاہدے کی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کردی۔کینیڈا کے شہر ہنٹس ویل میں جی ایٹ سربراہ اجلاس کے اختتام پرعالمی رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کیلئے مربوط طریقے سے مل جل کر کام کیا جائے گا اور پاکستان، افغانستان، صومالیہ اور یمن کی حکومتوں کو انتہا پسندی سے نمٹنے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔جی ایٹ ممالک قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق کے تحفظ اور گُڈ گورننس کو یقینی بنانے کیلئے بھی کوششیں بڑھانے پر متفق ہوگئے ہیں۔ بیان میں افغان حکومت کی اعتدال پسند طالبان سے امن معاہدے کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ افغان فورسز سیکیورٹی ذمہ داری سنبھالنے کیلئے پانچ سال کے اندر اندر پیش رفت دکھائیں۔ جی ایٹ اجلاس کے مشرکہ اعلامیے میں ایران اور شمالی کوریا کو متنازع ایٹمی پروگرام بند کرنے اور غزہ کی اسرائیلی ناکابندی ختم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔