5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43
عطا آباد جھیل کے متاثرین نے حکومت کو خود کشی کی دھمکی دے دی
جنگ نیوز -
ہنزہ…عطا آباد جھیل کے متاثرین نے حکومت کو خود کشی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کا اخراج نہ بڑھایا تو روزانہ پانچ کفن پوش جھیل میں کود جائیں گے۔ادھرعطا آباد جھیل میں پانی کی سطح برقرار ہے اور اسپل وے سے پانی کا اخراج معمولی اضافے کے ساتھ 15583 کیوسک تک ہوگیا ہے۔گلیشئرز پگھلنے کی رفتار کم ہوجانے کے باعث جھیل میں داخل ہونے والے پانی کی مقدار میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا ہے اور آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران جھیل کی سطح میں کوئی کمی یا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔دوسری جانب 10 روز قبل جھیل کو چوڑا کرنے کے لئے بالائی ہنزہ گوجال اسپل وے کی جانب کشتیوں کے ذریعے آنے والے بیلچہ بردار مظاہرین اور مقامی انتظامیہ کے مابین یہ طے پایا تھا کہ 28 جون تک جھیل کے اسپل وے کو اس حد تک چوڑا کردیا جائے گا کہ اس میں سے 30 سے 40 ہزار کیوسک پانی کے اخراج کو ممکن بنایا جاسکے، تاہم اس ڈیڈ لائین کے ختم ہونے میں اب صرف ایک دن باقی رہ گیا ہے اور اسپل وے سے پانی کا اخراج اب تک 16ہزار کیوسک تک بھی نہیں پہنچ سکا۔اس تمام تر صورت حال کو دیکھتے ہوئے گزشتہ 6 ماہ سے بیرونی دنیا سے منقطع بالائی ہنزہ گوجال کے متاثرین اور آئین آباد، ششکٹ اور گلمت کے آئی ڈی پیز نے دھمکی دی ہے کہ اگر 28 جون تک حکومت کی جانب سے کیا جانے والا وعدہ پورا نہیں ہوا تو اسپل وے کی انتہائی خطرناک صورت حال کے باوجود 29جون کی صبح وہ ایک بار پھر بیلچے لے کر اسپل وے پر پہنچیں گے اور ناصرف اسپل وے کو چوڑا کرنے کا کام خود شروع کریں گے بلکہ روزانہ پانچ آئی ڈی پیز کفن پہن کر اسپل وے میں کود جائیں گے۔