تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44

نرس سے اجتماعی زیادتی،ایک ملزم کے خلاف کارروائی،دیگر آزاد

جنگ نیوز -
کراچی ... جناح اسپتال کراچی میں ڈاکٹرز میس میں زیرتربیت نرس کے ساتھ زیادتی کے واقعے نے نہ صرف طبی عملے میں خوف پیدا کر دیا ہے بلکہ یہ واقعہ مسیحائی کے پیشے کے لیے ایک بدنما داغ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس واقعے کے ملزم ڈاکٹر جبار میمن کو وزیر صحت سندھ ڈاکٹر صغیر احمد نے ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ تیرہ جولائی کو جناح اسپتال کے ڈاکٹرز میس کی عمارت کی پہلی منزل پر واقع فلیٹ نمبر اکسٹھ ،،ایف،، سے متاثرہ نرس کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا کر پھینک دیا گیا۔جناح اسپتال کے شعبہ حادثات کی انچارج ڈاکٹر سیمیں جمالی نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں کسی نے اطلاع دی کہ کوئی نرس بے ہوش پڑی ہے۔ ہم اسے ایمرجنسی لائے، جبکہ واقعے کے تقریباً بیس منٹ بعداطلاع ملی کہ اسی جگہ سے ایک ڈاکٹر بھی زخمی حالت میں ملا ہے، اسے بھی شعبہ حادثات لایا گیا۔سیمی جمالی نے بتایا کہ ڈاکٹر کا نام جبار میمن ہے یہ محکمہ صحت سندھ کا ملازم ہے، اس کا تبادلہ ہو چکا تھا تاہم وہ یہاں غیر قانونی طورپر رہائش پذیر تھا۔سیمی جمالی نے بتایا کہ ہم نے اس واقع کامقدمہ درج کرادیا ہے۔متاثرہ نرس یتیم ہے اور کورنگی کے علاقے ضیا کالونی میں اپنی ایک بہن ،ایک بھائی اور والدہ کے ساتھ رہتی ہے۔ جناح اسپتال میں تھرڈ ائیر کی اس طالبہ کے سر پر شدید چوٹیں آئیں اورچہرے اور جسم کے دیگر حصوں پر بھی زخم اور تشدد کے نشانات تھے۔طبی معائنے اور نمونوں کے کیمیائی تجزیے کے بعد یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔ واقعے کے اگلے روز ڈاکٹر جبار میمن کو نجی اسپتال منتقل کر دیا گیا اور بتایا گیا کہ یہاں اسکی جان کو خطرہ ہے۔ نرسز کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو عبرتناک سزادی جائے۔ نرسز کے احتجاج اور مطالبے پر جناح اسپتال کی انتظامیہ نے اسپتال میں سرچ آپریشن کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔واقعے کے ملزم ڈاکٹر جبار میمن کے خلاف محکمہ صحت نے تحقیقات تو پہلے ہی شروع کر دی تھیں تاہم صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے مذکورہ ڈاکٹر کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔جناح اسپتال میں مجموعی طور پر تقریباً چار سو تیس نرسز خدمات انجام دیتی ہیں جن میں زیرتربیت نرسز بھی شامل ہیں اور ان نرسز کی اکثریت اسپتال کے اندر ہی رہائش پذیر ہے۔۔ملزم ڈاکٹر کی برطرفی سے اگرچہ نرسز میں پائی جانے والی بے چینی اور غم و غصے میں کسی حد تک کمی آئی ہے لیکن اس واقعے نے تمام نرسز کوخوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.