تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44

سماجی رویے ایڈز کی روک تھام میں بڑی رکاوٹ ہیں،ماہرین

جنگ نیوز -
نیویارک…سینٹرل مانیٹرنگ…طبی شعبے میں ہونے والی تمام تر ترقی کے باوجود ایڈز اب بھی ایک جان لیوا مرض ہے۔ سائنس دان اس بیماری پر قابو پانے کے لیے ایک عرصے سے کوششیں کررہے ہیں اور 1985ء کے بعد سے، جب اس موضوع پر ہونے والی پہلی کانفرنس میں ماہرین تبادلہ خیالات کے لیے اکھٹے ہوئے تھے، کافی پیش رفت ہوچکی ہے۔ویانا میں اس سلسلے کی 18 ویں سالانہ کانفرنس کی تیاریاں جاری ہیں جس میں امکان ہے کہ یہ جائزہ لیا جائے گا کہ سماجی رویے اس مرض پر قابو پانے میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں۔بہت سے ملکوں میں ایڈز میں مبتلا لوگوں سے اسی طرح دور رہنے کی کوشش کی جاتی ہے جیسا کہ ٹی بی کے مریضوں سے۔ ایچ آئی وی میں، جو کہ ایڈز کا سبب ہے، مبتلا بہت سے افراد ٹی بی کے بھی مریض ہوتے ہیں۔ ٹی بی چھوت کی ایک خطرناک بیماری ہے جو باآسانی ایک شخص سے دوسرے کو منتقل ہوجاتی ہے۔ایچ آئی وی میں مبتلا افراد سے لوگ دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ اس بیماری کو اخلاقیات اور مذہب کے نقطہ نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اسلامی ممالک میں بھی، ایچ آئی وی کے مریض موجود ہیں۔ اگرچہ اس وقت وہ تھوڑے ہیں لیکن اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بنیادی طورپر ایسے لوگ ایڈز میں مبتلا ہیں جو یا تو منشیات استعمال کرتے ہیں، ہم جنس پرست ہیں ،یا ان کے روابط جسم فروشوں کے ساتھ ہیں۔ اکثر معاشروں میں لوگ ایسے افراد سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ویانا میں ہونے والی کانفرنس کی توجہ کا مرکز ایچ آئی وی اور ایڈز لوگوں کے حقوق ہوگا۔ایڈز کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے مرض کے بارے میں بتانے میں شرم و جھجھک ،اور ان کے ساتھ امتیازی برتاوٴ کے علاوہ معاشرتی اقدار ایچ آئی وی ایڈز کی روک تھام میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاوٴ کا خطرہ درحقیقت خواتین میں اپنی عمر کے اس دور میں زیادہ ہوتا ہے جب ان میں افزائش نسل کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہی وہ گروپ ہے جس کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔اگرچہ دنیا بھر میں اس انفکشن میں مبتلا افراد میں سے نصف تعداد خواتین اور لڑکیوں کی ہے، لیکن افریقہ میں ایچ آئی وی کے مریضوں میں سے 60 فی صد خواتین ہیں۔ جنوبی افریقہ میں نوجوان خواتین میں مردوں کی نسبت ایچ آئی وی ایڈز کا ہدف بننے کا خطرہ تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔صحت سے متعلق عہدے داروں کا کہناہے کہ ایڈز سے بچاوٴ کے لیے ضروری ہے کہ غیرقانونی منشیات کے استعمال کو قانونی حیثیت دے دی جائے تاکہ ا سے استعمال کرنے والے صاف ستھری سرنجیں اور طبی سہولتیں حاصل کرسکیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے سزاوٴں کی پالیسیاں ایڈز کے پھیلاوٴ کے لیے جلتی پر تیل کا کام کررہی ہیں۔عالمی راہنماوٴں نے دنیا بھر میں ایچ آئی وی سے بچاوٴ ، علاج اور دیکھ بھال تک رسائی حاصل کرنے کے لیے 2010ء کی ڈیڈ لائن طے کررکھی ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.