5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45
مخصوص نشستوں پر منتخب خواتین عوامی نمائندہ نہیں کہلاسکتیں،جسٹس جاوید
جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ میں 18ویں آئینی ترمیم کے مقدمہ کی سماعت کے دوران ججوں نے ریمارکس میں مخصوص نشستوں کے بالواسطہ طریقہ انتخاب کو ناقص کہا ،، ججوں کا کہنا تھا کہ اس طریقہ انتخاب سے نشستوں کی تقسیم مخصوص گھروں میں ہوتی ہے اور غریب یا کارکن خاتون ، اسمبلی آنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ چیف جسٹس افتخار محمود چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 17 رکنی بنچ نے 18ویں آئینی ترمیم کے مقدمہ کی سماعت کی اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق نے آج دلائل مکمل کئے ،، سماعت کے مختلف مواقع پر جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیئے کہ مخصوص نشستوں کی خواتین ارکان یہ نہیں کہ سکتیں کہ وہ عوامی نمائیندہ ہیں ،، غریب گھرانوں کی خاتون، اسمبلی یا سینیٹ میں نہیں آسکتی اوران سیٹوں کی تقسیم مخصوص گھروں سے باہر نہیں نکل رہی ہے ، انہوں نے مزید ریمارکس میں کہا کہ مخصوص نشستوں پر انتخاب صرف پارٹی سربراہ کی صوابدید ہوتا ہے اسے براہ راست منتخب نہیں کہا جاسکتا ،، جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس میں مخصوص نشستوں کے موجودہ طریقہ انتخاب کو جمہوری اقدار کے منافی تصور کیا ،، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ طریقہ انتخاب جیسا بھی ہے، اس کا بنیادی مقصد خواتین کو نمائیندگی دینا ہے ، انہوں نے تجویز دی کہ مخصوص نشست کے امیدوار کا بیلٹ پیپر ، پولنگ اسٹیشن پر فراہم کردیا جائے تو عوام اس انتخابی عمل کا حصہ بن سکتے ہیں ، مقدمہ کے ایک درخواست گزار احمد رضا قصوری نے دلائل میں کہا کہ دنیا میں صرف برطانوی پارلے منٹ کو یہ خودمختاری حاصل ہے کہ وہ جو چاہے قانون بنا لے ، انہوں نے کہا کہ ریاست ایک بلا کی مانند ہوتی ہے جس پر نظر رکھنے کیلئے لئے پارلے مانی کردار اور عدالتی نظرثانی ، دونوں ضروری ہیں،،عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کہ وہ آئینی اصلاحات کمیٹی کے سربراہ سینیٹر رضا ربانی سے پوچھ کر بتائیں کہ وہ کب عدالت میں آسکتے ہیں۔