5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45
فلڈ ٹیکس مسائل کا حل نہیں، کرپشن پر قابو پانا ہوگا، عبد الحفیظ پاشا
جنگ نیوز -
کراچی . . . ممبر اکنامک ایڈوائزر کونسل ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا ہے کہ سیلاب سے ملک کی معیشت کو بہت نقصان پہنچا ہے جس کو پوراکرنے کے لیے حکومت کو کرپشن کا خاتمہ، شاہانہ اخراجات پر قابو، بد انتظامی اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔ جیونیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی جانب سے پراپرٹی پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز سودمند نہیں ہے کیونکہ حکومت کو پراپرٹی ٹیکس کی مد میں صرف 8 ارب روپے حاصل ہوتے ہیں جس کو دگنا بھی کردیا جائے تو بھی یہ ناکافی ہے کیونکہ درکار رقم بہت زیادہ ہے جب کہ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی اصلاح کرکے کم سے کم 100 ارب روپے بچائے جاسکتے ہیں۔ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ آئی ایم ایف سے ملنے والا 45 کروڑ ڈالر کا قرض عام قرض ہے جو قدرتی آفات کی صورتحال میں دوسرے ممالک کو بھی ملتا ہے جسے پانچ سال میں واپس کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو بیرونی قرضوں کی ادائیگی بڑھنے والی ہے اور اگلے سال سے آئی ایم ایف سے لیے گئے 8 ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی بھی شروع ہوجائے گی۔ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ بیرونی امداد گرانٹ کی شکل میں لینی چاہیے نہ کہ قرض کی کیونکہ اب ہم مزید قرض کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتے۔ دو ماہ بعد سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے پیسے نہ ہونے کے وفاقی وزیر خزانہ کے بیان پر ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ وزیر خزانہ ابھی واشنگٹن کے دورے سے واپس آئے ہیں اور آئی ایم سے مذاکرات زیادہ اچھے ثابت نہیں ہوئے ہیں۔اور وہ ان حالات میں یہ بیان دینا چاہتے ہیں کہ ہمیں کفایت شعاری اپنانا ہوگی۔