5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45
دنیا کے سخت جان جراثیم کے خلاف لال بیگ سے موثر دوا کی تیاری
جنگ نیوز -
لندن . . . سینٹرل مانیٹرنگ . . . سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ بہت جلد لوگوں کا اس ناگوار کیڑے سے متعلق خیال بدلنے والا ہے کیونکہ یہ دنیا کے سخت جان جراثیم کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ لال بیگ میں ایسے مرکبات موجود ہیں جو MRSA اور e-coli کے امراض کے خلاف مدافعت رکھتے ہیں اور جن کا فی الحال علاج بہت دشوار اور پیچیدہ ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لال بیگ کے دماغ اور اعصابی نظام میں پائے جانے والے ریشوں میں ایسی خصوصیات موجود ہیں جن سے انسانی خلیوں کو کوئی نقصان پہنچائے بغیرMRSA اور e-coli کے 90فیصد بیکٹیریا کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔MRSAایسا بیکٹیریا ہے جو جسم کے مختلف حصوں میں انفیکشن پیدا کرتا ہے۔یہ انفیکشن آسانی سے ختم نہیں ہوتے کیونکہ زیادہ تر جراثیم کش ادویات اور اینٹی بائیوٹک اس پر اثر نہیں کرتیں۔اکثر اوقات یہ مرض جلد پر ایک پھوڑے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے تاہم یہ مرض آپریشن کے زخموں، خون، پھیپھڑوں اور پیشاب کی نالی میں بھی لاحق ہوسکتا ہے۔MRSA کے اکثر انفیکشن پیچیدہ ہوتے ہیں اور یہ زندگی کے لیے خطر ہ بن سکتے ہیں۔ MRSA کی طرح e-coli بھی ایک خطرناک مرض ہے ۔ یہ اسہال کی ایک ایسی قسم ہے جو اکثر اوقات خونی اسہال کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔برطانیہ کی نوٹنگھم یونیورسٹی کے ماہرین کو معلوم ہوا ہے کہ لال بیگ میں 9ایسے مرکبات پائے جاتے ہیں جو جراثیموں کے لیے انتہائی مہلک ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ ان مرکبات سے وہ ایسی دوا بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے جو ایسے جراثیموں کے خلاف زیادہ موثر ہوگی جن کے خلاف اکثر دوائیں کوئی اثر نہیں کرتیں۔لال بیگ پر تحقیق کرنے والے ناٹنگھم یونیورسٹی کے محققSimon Lee نے اپنی تحقیق کے نتائج حال ہی میں ہونے والے Society for General Microbiology کے اجلاس میں پیش کیے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ نئی دریافت جلد ہی دورِ حاضر کی ان دواؤں کا بدل بن جائے گی جو MRSA اور e-coli کے علاج میں بے اثر ہوتی جارہی ہیں۔