5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45
معزول پراسیکیوٹر جنرل نیب عرفان قادر کو حاصل مراعات واپس لے لی گئیں
جنگ نیوز -
اسلام آباد…معزول پراسیکیوٹر جنرل نیب عرفان قادر کو حاصل مراعات واپس لے لی گئیں ہیں، وزیر اعظم پاکستان کے احکامات کے بعد گذشتہ رات انہیں آگاہ کر دیا گیا تھا کہ وہ عہدے پر برقرار نہیں رہے لہٰذا وہ اب سرکاری مراعات لینے کے مجاز نہیں ہیں۔ وزیر اعظم کے احکامات کے بعد عرفان قادر کو دیئے گئے سرکاری ملازمین کو واپس بلا لیا گیا ہے جب کہ نیب ہیڈکوارٹر میں واقع ان کے دفتر کا فون بھی منقطع کر دیا گیا ہے۔ معزول پراسیکیوٹر جنرل نیب عرفان قادر نے ابھی سرکاری رہائش گاہ نہیں چھوڑی اور اسے اگلے چند دن میں خالی کرنے کا کہا ہے ۔ عرفان قادر کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ نیب آرڈیننس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کی پراسیکیوٹر جنرل کے عہدے پر دوبارہ تعیناتی تو کی ہی گئی لیکن تنخواہ اورمراعات کی مد میں بھی خصوصی طور پر نوازا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق عرفان قادر نے اپنی تعیناتی کے موقع پر دس لاکھ روپے تنخواہ کا مطالبہ کیا تھا لیکن انہیں ساڑھے تین لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر راضی کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں نئی قیمتی گاڑی اور اسلام آباد کے مہنگے ترین علاقے ای فائیو میں سرکاری گھر بھی دیا گیا حالانکہ سرکاری گاڑی اور رہائش ان کے کنٹریکٹ میں شامل نہیں تھی۔ ٹی اے ڈی اے اور دیگر الاونسز کے علاوہ اپنی چار ماہ کی تعیناتی کے دوران انہوں نے تنخواہ کی مد میں چودہ لاکھ روپے سے زائد وصول کیے۔ عرفان قادر سے پہلے پراسیکیوٹر جنرل نیب دانشور ملک تنخواہ کی مد میں اڑھائی لاکھ روپے ماہانہ وصول کرتے تھے۔ وزارت قانون کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پراسیکیوٹر جنرل نیب کے عہدے کے لیے تنخواہ اور مراعات کو موقع کی مناسبت سے بڑھایا جا سکتا ہے اور اس حوالے سے قانون میں گنجائش موجود ہے۔