5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45
محمد آصف کو وطن واپسی پر خطرہ،برطانیہ میں سیاسی پناہ پر غور شروع
جنگ نیوز -
لندن. . . . . .. . برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ میچ فکسنگ الزام کا سامنا کرنے والے پاکستانی بولر محمد آصف کو وطن واپسی پر شدید ردعمل اور سٹے باز مافیا کا نشانہ بننے کا خطرہ ہے جس سے بچنے کیلئے انہوں نے برطانیہ میں سیاسی پناہ پر غور شروع کردیا۔ڈیلی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق محمد آصف نے گزشتہ جمعے کو ایک امیگریشن وکیل سے آدھے گھنٹے سے زائد دورانیے کی میٹنگ کی اور برطانیہ میں قیام کے طریقوں پر صلاح مشورہ کیا۔ جیو نیوز کو ذرائع نے بتایا ہے کہ لندن کی مالک اینڈ مالک لا فرم نے آصف کی جانب سے سیاسی پناہ پر صلاح مشورے کی تصدیق کردی ہے۔ آصف کو خدشہ ہے کہ انہیں وہ خطرناک جرائم پیشہ گینگز نشانہ بناسکتے ہیں جنکا تعلق غیرقانونی سٹے بازوں کی انڈرورلڈ سے ہے۔ ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق آصف سیاسی پناہ کی درخواست آگے بڑھانے سے پہلے آئی سی سی اور اسکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کررہے ہیں۔ امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ آصف کا سیاسی پناہ کا کیس انتہائی مضبوط ہوسکتا ہے اگر وہ یہ ثابت کردیں کہ انکی جان کو خطرہ ہے اور پاکستانی حکام انہیں سیکیورٹی فراہم کرنے میں دلچسپی یا اسکی صلاحیت نہیں رکھتے۔ 27 سالہ فاسٹ بولر نے ساؤتھ ہال، لندن میں ایک پاکستانی ریستوران میں امیگریشن وکیل سے گزشتہ ہفتے جمعے کو ملاقات کی۔ وکیل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شروع میں آصف نے سیاسی پناہ کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ صرف برطانیہ میں قیام کے طریقے پوچھے۔ جب آصف کو مختلف طریقے بتائے تو پھر اُس نے سیاسی پناہ کے بارے میں سوال پوچھا۔ اس موقع پر آصف انتہائی فکرمند دھائی دیتے تھے۔ اور وطن واپسی پر ممکنہ طور پر شدید ردعمل اور طاقتور سٹے باز مافیا کی کسی کارروائی پر پریشان تھے۔ ایک نامعلوم عمررسیدہ شخص بھی ملاقات میں ان کے ہمراہ تھا۔ اخبار کے مطابق آصف کی جانب سے سیاسی پناہ پر غور کی رپورٹ کے بارے میں پاکستانی ہائی کمیشن نے ردعمل ظاہر کرنے سے انکار کردیا جبکہ پاکستان ٹیم کے منیجر نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔