27 اگست 2011
وقت اشاعت: 4:17
لیبیا: باغیوں کی قیادت بن غازی سے طرابلس منتقل
آج نیوز - لیبیا کے باغیوں کی قیادت بن غازی سے طرابلس منتقل ہوگئی۔ اقوام متحدہ نے لیبیا کے منجمد ڈیڑھ ارب ڈالر جاری کردیئے۔ باب العزیزیہ پر قبضے اور صدر معمر قذافی کو منظر سے لاپتہ ہوئے چار روز گزر گئے لیکن ابھی تک لیبیا کی صورتحال واضح نہیں ہے۔ قذافی تاحال باغیوں کی گرفت سے بچے ہوئے ہیں۔ مفرور صدر نے آڈیو پیغام میں عوام سے دشمنوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور طرابلس آزاد کرانے کی اپیل کی ہے۔ باغیوں نے دارالحکومت کے ضلع ابو سالم میں قذافی کے حامیوں کے خلاف کارروائی کی اور متعدد افراد کو گرفتار کرلیا۔ باغی قذافی کے آبائی علاقے سیرت کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب باغیوں کی قیادت طرابلس منتقل ہوگئی ہے۔ ٹیلی ویژن پر باغیوں کے ترجمان کا پیغام نشر کیا گیا جس میں بٹالین، نان کمیشنڈ افسران اور جنگجوؤں سے بیرکوں میں واپسی، ہتھیار اور عسکری ہوائی اڈوں پر قبضے محفوظ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ باغیوں کے اہم رہنما علی ترہونی نے طرابلس میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ قذافی کے حامی ہتھیار ڈال دیں۔ ان سے بدلہ نہیں لیا جائے گا اور قانون کے مطابق ہی سلوک ہوگا۔ باغیوں کے رہنما مصطفی عبدالجلیل نے باغیوں کی مدد کرنے والے ممالک کو لیبیا کی تعمیر نو میں حصہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر باغیوں کی عبوری کونسل کی طرابلس منتقلی کے بعد اقوام متحدہ نے لیبیا کے منجمد ڈیڑھ ارب ڈالر کے فنڈ جاری کردئے۔ استنبول میں لیبیا کے کانٹیکٹ گروپ کے سفارتکاروں کا اجلاس ہوا جس میں ڈھائی ارب ڈالر کے فنڈ آئندہ ہفتے جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے بیان میں کہا ہے باغی ہتھیاروں کا تحفظ کریں اور اسے انتہا پسندوں کے ہاتھ نہ لگنے دیں۔