13 جنوری 2012
وقت اشاعت: 8:53
قومی اسمبلی:ن لیگ، متحدہ اور ہم خیال کے ارکان کاواک آوٴٹ
آج نیوز - قومی اسمبلی میں حکومتی اراکین نے بلوچستان اور سندھ میں اپنی ہی حکومتیں ہٹا کر گورنر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ ندیم افضل چن کہتے ہیں کہ بلوچستان میں کٹھ پتلی حکومت قبول نہیں، بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف مسلم لیگ ن، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ہمخیال نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔بلوچستان کی صورتحال پر بحث کے دوران پیپلزپارٹی کے اراکین نے صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ، ناصر شاہ نے کہاکہ بلوچستان حکومت امن قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ صوبے میں گورنر راج نافذ کیا جائے۔ انہوں نے ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا اور پارلیمنٹ کے باہر احتجاجاً دھرنا دیا۔ ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کٹھ پتلی حکومت دوسروں پر الزام لگاتی ہے، ہزارہ برادری کے لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ پر وزیراعظم اور وزیر داخلہ ایوان میں وضاحت کریں۔ وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ کا کہنا تھا کہ لیڈر شپ اس قابل نہیں کہ ان کے پیچھے چلا جائے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر بلوچستان اور سندھ کی صوبائی حکومتیں ناکام ہیں تو دونوں صوبوں میں گورنر راج نافذ کیا جائے، بشریٰ گوہر کا کہنا تھا کہ ہم صرف فاتحہ کیلئے ہی رہ گئے ہیں، وفاقی وزیر داخلہ کو مستعفی ہو جانا چاہئے، لوڈ شیڈنگ کے خلاف مسلم لیگ ن، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ہمخیال نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ ایوان کا اجلاس بدھ کی صبح دس بجے پھر ہو گا۔