تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
13 جنوری 2012
وقت اشاعت: 8:56

سینیٹ انتخابات کے لئے جوڑ توڑ کی سیاست کا آغاز

آج نیوز - دو مارچ کو سینٹ کی چون نشستوں پر ہونے والے انتخابات کے لئے جوڑ توڑ کی سیاست کا آغاز ہو گیا۔ مسلم لیگ ق نے پیپلز پارٹی سے سینٹ کی سات نشستیں مانگ لیں۔ سیاسی جماعتوں نے ایوان بالا میں اپنی نمائندگی برقرار رکھنے کے لئے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی طرف حسرت و یاس سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ مسلم لیگ ق پیپلز پارٹی سے اتحاد کی بدولت سینٹ میں اپنی نشستیں بڑھانے میں کامیاب تو ہو جائے گی لیکن دوسری طرف مولانا فضل الرحمان حکومتی اتحاد سے باہر آنے کے بعد دو مارچ کو ہونے والے سینٹ انتخابات میں اپنا کوئی نمائندہ بھی کھڑا کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ سینٹ کے آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ فنگشنل، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی شیر پاؤ گروپ، جمہوری وطن پارٹی اور پختوں خواہ ملی عوامی پارٹی اپنی نمائندگی کھو بیٹھیں گی۔ بظاہر تو مسلم لیگ ق کے نو سینیٹرز کی بارہ مارچ کو ریٹائرمنٹ کے بعد چوہدری شجاعت حسین اکیلے ہی سینٹ میں رہ جائیں گے لیکن آڑھے وقت میں حکومتی اتحاد میں شامل ہونے کی وجہ سے ق لیگ وفاق سے ایک نشست کی متمنی ہے، جس کے لئے اس نے وسیم سجاد کے بجائے مشاہد حسین سید کا نام تجویز کیا ہے جبکہ پنجاب سے وسیم سجاد، کامل علی آغا اور ایس ایم ظفر، سندھ سے دلاور عباس شاہ کا نام تجویز کیا گیا ہے۔ اسی طرح خیبر پختون خواہ اور بلوچستان سے بھی مسلم لیگ ق نے سینٹ کی ایک ایک نشست کا مطالبہ کیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی طرف سے سینٹ انتخابات سے پہلے اسمبلیوں سے استعفے دینے کا خدشہ دور ہونے کے بعد پنجاب میں حکمران جماعت کا ساتھ دینے والا مسلم لیگ ق کا یونیفکیشن گروپ بھی حرکت میں آ گیا ہے اور شہباز شریف سے انہوں نے ایک نشست کا مطالبہ کیا ہے۔ مسلم لیگ ن اپنی اکثریت کے باعث پنجاب سے سینٹ کی بارہ میں سے چھ نشستیں جیت سکتی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی چار اور مسلم لیگ ق دو نشستوں پر کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔ پنجاب سے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لئے ق لیگ نے بھی ناراض اراکین سے رابطوں کا آغاز کر دیا ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.