14 جنوری 2012
وقت اشاعت: 17:31
سوئس عدالت کو خط لکھ دینا چاہئے، اعتزاز
آج نیوز - سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ان کی ذاتی رائے میں سوئس عدالت کو خط لکھ دینا چاہئے صدر کو وہاں بھی استثنیٰ حاصل ہے۔ ان کا کہنا ہے اگر حکومت ان کے مشوروں پر عمل کرتی تو اتنا ابہام پیدا نہ ہوتا۔وہ لاہور میں تصویری نمائش کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم یا صدر کو آئینی طریقے سے ہٹانے کیلئے کوئی تحریک لائی جاتی ہے تو اس سے جمہوریت کو خطرہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویانا کنونشن کے تحت صدر کو پوری دنیا میں استثنیٰ حاصل ہے۔ پیپلز پارٹی کی اجتماعی سوچ ہے کہ سوئس عدالت کو خط نہیں لکھنا چاہئے اور وہ اس کا احترام کرتے ہیں تاہم ان کی ذاتی رائے مختلف ہے۔اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ سیکرٹری دفاع کو ہٹانا وزیر اعظم کا آئینی حق ہے لیکن متاثرہ فریق بھی عدالت میں جاسکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ عدلیہ اور حکومت کے درمیان کسی پل کا کردار ادا کر رہے ہیں اور نہ ہی انہیں صدر کی طرف سے چیئرمین سینیٹ یا وزیراعظم بننے کی پیشکش ہوئی ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چھ آپشنز حکومت کے لئے نہیں بلکہ لارجر بنچ کے لئے ہیں۔کسی کو سنے بغیر بددیانت قرار نہیں دیا جاسکتا۔عدالت نے بادی النظر میں یہ حوالہ دیا تھا۔