13 اگست 2011
وقت اشاعت: 8:56
سندھ میں کمشنری نظام ہی چلے گا، پیرپگارا
اے آر وائی - کراچی : مسلم لیگ فنکشنل کےسربراہ پیرپگارانےکہاہےکہ ان کے پیرالطاف انکل ہیں۔ صدرزرداری کے فیصلے ان کی مجبوریوں کے ماتحت ہیں۔ کراچی میں پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ حکومت قلابازیاں کھارہی ہے ،سندھ میں کمشنری نظام ہی چلے گا۔
صحافیوں سے باتیں کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نہ ایک تھی نہ نیک اور نہ ہی اب ہوگی۔ مجھے چوہدری شجاعت کی سربراہی قبول نہیں۔ صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ان کے فیصلے ان کی مجبوریوں کے ماتحت ہیں اورمیرے فیصلے بھی مجبوریوں پر مبنی ہیں لیکن میں تو اسی برس کی زندگی گزارچکا ہوں اور قبر میں پیر لٹکائے بیٹھا ہوں۔ غوث علی شاہ مجھ سے عمر میں چھوٹے ہیں۔
سرائیکی صوبے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بہاولپور صوبہ بنناچاہئے۔ بابراعوان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت اونچا اور تیز بولتے ہیں اور ان کے اونچا بولنے سے میں بھی ڈرتا ہوں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے فیصلوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں عدالتی فیصلے ماننے چاہئیں اور ملک میں جوڈیشل مارشل لا آسکتا ہے۔
کراچی کوعلیحدہ صوبہ بنانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ کراچی دارالخلافہ تھا اسے واپس یہ عہدہ ملناچاہئے۔ ان کاکہنا تھا کہ اور سب اپنے کئے کی سزا بھگتیں گے۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے کور کمانڈر اجلاس میں تشویش کا اظہار کیا گیا اس پر تبصرہ کرتے ہوئے پیر صاحب نے کہا کہ زیادہ ہلاکتیں کچھ زیادہ ہی ہوجاتی ہیں اسی لئے انہیں بھی تشویش ہوجاتی ہے۔
نوازشریف کے بارے میں پیرصاحب نے کہا کہ ان کا مستقبل تاریک ہے اور وہ بس گھر بیٹھ کر پیسے بنائیں۔ کشمیراسلام آباد سے صرف گیارہ میل کے فاصلے پر ہے لیکن نہ وہ ہمارا تھا نہ ہے ناہوگا۔ سندھی ہندوؤں کے کبھی بھی غلام نہیں تھے۔ مہاجرین بھارت سے لٹے پٹے آئے تھے۔ راشن خریداری کے حوالے سے پیرپگارا کا کہنا تھا کہ یہ مشورہ اس لئے دیا گیا تھا کہ رمضان کے بعدمہنگائی میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ جن لوگوں نے سندھ کے ساتھ ظلم کیاہے وہ نہیں بچیں گے اورساتھ قائم و دائم رہے گا وہ اس لئے کہ یہاں کھانے کے لئے بہت کچھ ہے۔