13 اگست 2011
وقت اشاعت: 8:59
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس
اے آر وائی - اسلام آباد : سیکرٹری دفاعی پیداوار لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات میں موجودہ کھچاؤ کے باعث مہران بیش حملے میں متاثر ہونے والے پی سی تھری اورین طیاروں کی تبدیلی ممکن نہیں۔
زاہد حامد کی سربراہی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی خصوصی کمیٹی کے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اجلاس کو سیکرٹری دفاعی پیداوار لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد اقبال نے بتایا کہ پاک بحریہ کے زیر استعمال موجودہ سرویلنس طیارے امریکہ سے حاصل کئے گئے تھے اور ان کا موجودہ بہترین متبادل بھی امریکی طیارے ہیں تاہم موجودہ پاک امریکہ تعلقات کے تناظر میں فی الحال ان کا متبادل ممکن نہیں۔
پی اے ایف کمپلیکس کامرہ کے چیئرمین ائیر مارشل فرحت حسین نے اجلاس کو بتایا کہ چین کے تعاون سے تیار کردہ جے ایف 17طیاروں کی پاکستان میں 58فیصد تک تیاری کی جارہی ہے تاہم انتہائی مہنگی ٹیکنالوجی ہونے کے باعث ملکی سطح پر 100فیصد تیاری ممکن نہیں ، اجلاس میں دفاعی پیداوار کے 1998-99ء کے حسابات کے جائزے کے دوان مختلف مدوں میں قواعد کی خلاف ورزی پر کمیٹی نے برھمی کا اظہار کرتے ہوئے قواعد پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدائیت کی جبکہ پی او ایف واہ اور پی اے ایف کامرہ کے امور پر ڈی اے سی بلانے کی ہدائیت کی گئی ۔