13 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:9
برطانیہ فسادات میں کوئی خاص کمیونٹی نشانہ نہیں ، پاکستان
اے آر وائی - اسلام آباد : پاکستان نے کہا ہے کہ برطانیہ میں ہونے والے فسادات میں کسی خاص کمیونٹی کو نشانہ نہیں بنایا جارہا ہے ،برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن نے اپنی کمیونٹی کو پر امن رہنے اور
انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی ہے شام کی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم پاکستان سمجھتا ہے کہ کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے ۔
دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ لندن اور برمنگھم میں ہونے والے فسادات کے دوران پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کی ہلاکت پر افسوس ہے ،برطانیہ میں اس وقت15 لاکھ سے زائد پاکستانی یا پاکستانی نژاد برطانوی شہری قیام پذیر ہیں ،لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن سے برمنگھم میں قونصلیٹ اپنے شہریوں سے مکمل رابطے میں ہے جنہوں نے پاکستانی کمیونٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ امن وامان کے لئے برٹش انتظامیہ سے تعاون کریں ان فسادات میں کسی خاص کمیونٹی کو نشانہ نہیں بنایا جارہا ہے ۔
تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان شام کی صورت حال کا جائزہ لے رہا ہے شام میں امن و امان پر توجہ ہونی چاہیے انہوں نے واضح کیا کہ شام میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ شام کا اندرونی معاملہ ہے اور پاکستان سمجھتا ہے کہ کسی بھی ملک کو کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر ہیں تاہم آپریشنل نوعیت کے تعلقات میں مشکلات آرہی ہیں جن کو دور کرنے کے لئے کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امریکی ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی مذمت کرتا ہے جس میں امریکی فوجیوں کے ساتھ افغان فوجی بھی مارے گئے پاکستان افغان مفاہمتی عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے اور تین اگست کو ہونے والے سہ فریقی کور گروپ کے اجلاس میں اپنے مکمل تعاون کا اعادہ کر چکا ہے ،امریکیوں کو ویزہ کے اجراء کے حوالے سے کئے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ویزوں کا معاملہ وزارت داخلہ کے پاس ہے ،دفتر خارجہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔