تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
3 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 13:30

سندھ میں بارشیں:2نہروں میں شگاف،مزید11ہلاک

اے آر وائی - خیر پور: سندھ میں طوفانی بارشیں، خیر پور کی دو نہروں میں شگاف، متعدد دیہات زیر آب آ گئے،بارش کا سلسلہ مزید تین روز جاری رہے گا، محکمہ موسمیات کی پیشیچ گوئی ۔مسلسل چار روز سے جاری بارشوں کے دوران دادو ضلع میں مکانات منہدم ہونے کے باعث گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں گیارہ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ دادو اور جوہی شہر کے مختلف علاقوں میں تاحال بارش کا پانی چار فٹ تک گھروں میں موجود ہے ۔



خیرپور کے علاقے فیض گنج میں دو نہروں علی نواز واہ اور پندرہو واہ میں 50.50فٹ شگاف پڑ جانے سے 8دیہات اور سینکڑوں ایکڑ اراضی زیر آب آگئی ہے ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں علاقے میں بڑی تباہی مچ گئی ہے زیر آب آنے والے دیہات میں گوٹھ نہال خان بالادی گوٹھ رفیق جٹ ، گوٹھ چودری امین، گوٹھ سومر بالادی اور دیگر دیہات شامل ہیں نہروں میں شگاف مسلسل موسلا دھار بارشوں اور طوفانی ہواؤں کی وجہ سے پڑا متاثرین خواتین اور معصوم بچوں کے ہمراہ بے سہارا کھلے آسمان کے نیچے بیٹھ گئے ہیں متاثرین کے مطابق انکا کھانے پینے کی اشیاء سمیت سب کچھ پانی میں بہہ گیا ہے اور فصلیں بھی ڈوب گئی ہیں حکومت کی طرف سے انکی کوئی مدد نہیں ہوئی جس کی وجہ سے انکو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔



تحصیل ٹنڈو غلام حیدر کے نواحی گاؤں لیاقت علی لغاری، میں بارشوں نے تباہی مچادی ، متعدد گاؤں زیر آب سو سے زائد مکانات منہدم ہوئے، جبکہ کئی افراد پانی میں پھنسے ہوئے ہیں ،متاثرہ علاقوں میں کوئی بھی امدادی ٹیمیں نہ پہنچ سکی ہیں اور نہ ہی ریسکیو ٹیموں کی جانب سے کاروائی عمل میں لائی جا سکی ہے، صحت کی سہولیات کا بھی فقدان ہے۔ متاثرہ گاؤں میں ایک پرائمری اسکول بھی قائم تھا جہاں پر ننھے بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوتے تھے ،اب ننھے بچے تعلیم کے حصول کے لئے اپنی معلمہ کے ساتھ ٹوٹی پھوٹی بینچوں پر بیٹھ کر مسیحا کا نتظار کرنے پر مجبور ہے کہ کوئی تو آئے گا جو ان کی درسگاہ کو تعمیر کروائے اور یہ بچے پھر سے تعلیم کی جستجو میں مگن ہوجائیں۔ انتظامیہ کا کردار کہیں پر بھی نظر نہیں آیا ۔



گذشتہ چار روز سے جاری بارشوں کے باعث دادو ضلع میں چار سو سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ سینکڑوں مکانات منہدم ہوگئے،مکانات گرنے کے باعث گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران گیارہ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں جبکہ دادو کہ مختلف علاقوں اور جوہی شہر کے مختلف علاقوں میں تاحال بارش کا پانی چار فٹ تک گھروں میں موجود ہے جبکہ کاچھو کے سو سے زائد دیہاتوں کا رابطہ جوہی سے منقطع ہوگیا ہے، سینئر صوبائی وزیر پیر مظہر الحق ، ایم پی اے کلثوم چانڈیو ، نثار پہنور کے ہمراہ بارش سے متاثرہ علاقوں اوربارش سے مکانات کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لیا اور بارش کے پانی کے اخراج کے کام کا معائنہ کرنے کے بعد اے آروائی نیوز س گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خصوصاً دادو شہر اور جوہی میں بارش کی وجہ سے کچے مکانات گرگئے ہیں اور نقصان ہوا ہے۔ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ متاثرین کو خوراک اور دوائیاں مہیا کی جائیں جبکہ دو روز مزید امکانی بارشوں کے بعد گرنے والے مکانات کا سروے کرنے کے بعد بارش متاثرین کو معاوضہ اور امداددی جائے گی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.