13 جنوری 2012
وقت اشاعت: 16:36
حکومت کو بند گلی میں دھکیل دیا گیا ہے،عاصمہ جہانگیر
اے آر وائی - سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ حکومتی ناقص کارکردگی کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کچھ مضبوط ہوئی۔ حکومت کو بند گلی میں دھکیل دیا گیا ہے جس میں ایک ٹینٹ لگاکر اس پر انصاف کا علم لگادیا گیا ہے۔
سیشن کورٹ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ ساتھ ساتھ رہے ہیں، ہم یہ اکٹھ ختم کرنا چاہتے تھے مگر ایسا نہ ہوسکا، چند مواقع پر انہیں محسوس ہوا کہ ہماری عدلیہ آزاد نہیں، پاکستان میں بوٹوں کی چھاپ جاتے ہوئے کبھی نہیں سنی، یہ ہمیشہ موجود رہتے ہیں، یہ کبھی ٹپ ٹپ اور کبھی ٹھک ٹھک کی آواز نکالتے ہیں۔
عاصمہ کا کہنا تھا کہ منصور اعجاز پاکستان آئے نہ آئے کوئی فرق نہیں پڑتا جس نے جو فیصلہ کرنا ہے وہ کرنا ہی ہے، میمو معاملہ پر ایک دن کھودا پہاڑ نکلا چوہا جیسی صورتحال ہوگی، جب تک ڈی جی آئی ایس آئی منصور اعجاز سے نہ ملے میمو عوامی نوعیت کا مسئلہ نہ بن سکا، پاکستانی لوگ اتنے بیوقوف نہیں کہ منصور اعجاز کے بیان کو درست تسلیم کرلیں کہ میمو کے معاملہ پر تین افراد شامل تھے۔
سینیئر وکیل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انتخابات اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سے ہوتے ہیں، اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ سیاستدانوں کی ایک کھیپ بنائی ہے۔