تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
27 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 10:3

سوشل میڈیا کا غلط استعمال،سخت قانون سازی کی ضرورت

جیو نیوز - کراچی …واصف شکیل… پاکستان میں اس وقت تقریباً 3کروڑ انٹرنیٹ صارفین ہیں ،جن میں نصف تعداد اسمارٹ فون کے ذریعے سوشل میڈیا کا استعمال کرتی ہے،اتنی بڑی تعداد کا سوشل میڈیا یوزرزہونا جہاں اپنے اندر ایک خوشگوار احساس رکھتا ہے، وہیں اس کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں کو ہراساں اور بلیک میل کرنا عام بات ہوگئی ہے ۔

ہراساں اور بلیک میل کئے جانے کی ایک اہم وجہ سوشل میڈیا کمپنیز کی علاقائی زبانوں سے لاعلمی اوروہ مخصوص حالات ہیں، جن میں یہ سب ہوتا ہے جبکہ لاتعلقی بھی اس بڑھتے رجحان کو تقویت دے رہی ہے۔اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں ایک کروڑ 70لاکھ لوگ فیس بک جبکہ 30لاکھ ٹوئٹر پر ہیں۔سوشل میڈیا پر کون ، کیااور کیسے کررہا ہے اس پر کوئی روک ٹوک نہیں، آپ کسی بھی نام سے اکاؤنٹ بناکر کچھ بھی کرتے رہیں ، کوئی نہیں پوچھے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا ایک پروپیگنڈہ مشین بن کررہ گیا ہے، جہاں ہر قسم کا اچھا ، برا اور غیراخلاقی مواد پھیلایا جاسکتاہے اور لوگ اکثر اس سے بے خبر رہتے ہیں کہ یہ سب کون کررہا ہے؟

گزشتہ ہفتے کی ہی بات ہے میں نے پی ٹی آئی کراچی کی رہنما ناز بلوچ کی آئی ڈی دیکھی۔اس اکاؤنٹ پر کوئی سیاسی بات یا تبصرہ نہیں ہورہا تھا بلکہ فضول باتیں کہی جا رہی تھیں۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ناز بلوچ کا نہیں بلکہ ان کے نام سے بنایا گیا جعلی اکاؤنٹ ہے۔

اسی طرح معروف شخصیات کے نام سے جعلی اکاؤنٹ بنانا اور لوگوں کو گمراہ کرنا اب ایک وطیرہ بن گیا ہے،بے شمار سیاسی رہنماؤں اور مشہور ملکی شخصیات کے نام سے جعلی شوشل میڈیا اکاؤنٹ بناکر دوسروں پر کیچڑ اچھالی جاتی ہے، مگر اسے روکنے کیلئے کوئی قانون نہیں ہے۔

معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی، انورمقصود اور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام سے بھی جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹس بنائے گئے ہیں۔سابق پاکستانی کرکٹراور کمنٹیٹر رمیزراجہ کے نام سے بھی جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹ بنایا گیا ہے، جس کے 65ہزار سے زائد فالورز ہیں جبکہ وہ اکاوٴنٹ رمیز راجہ کا ہے ہی نہیں،اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لاکھوں لوگ دھوکے میں ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما ناز بلوچ کا ’جنگ ویب‘ سے گفتگو میں اس حوالے سے کہنا تھا ” میں کچھ عرصہ قبل ہی اس جعلی اکاؤنٹ کے بارے میں اپنے فالورز کو بتا چکی ہوں ، کچھ افراد نامور شخصیات کی مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے ناموں سے جعلی اکاؤنٹ بناتے ہیں۔“

پاکستان میں انٹرنیٹ قوانین اور اظہار رائے کی آزادی کیلئے کام کرنے والی ایک این جی اوکی پروگرام منیجر مدیحہ لطیف کا کہنا ہے کہ نئے آنے والے سائبر بل کی شق 14اسی جرم سے متعلق ہے اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کو3 سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔

مدیحہ لطیف نے مزید بتایا کہ اس شق میں کچھ خامیاں بھی ہیں، جس سے اس کے غلط استعمال کا خدشہ ہے۔ ’بلااجازت ذاتی معلومات کا استعمال‘ ہر شخص کو ملزم بناسکتا ہے، اس لیے اس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ جعلی اکاوٴنٹ بنانے کے رجحان کو روکنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جس کے نام سے جعلی اکاؤنٹ بنایا گیا ہے وہ خود سوشل میڈیا کمپنی سے رابطہ کرے اور اس کا نام استعمال کرکے جعلی اکاؤنٹ بنائے جانے کے ثبوت فراہم کرے تو کمپنی اس جعلی اکاؤنٹ کو بند کردے گی۔

ناز بلوچ کا کہنا ہے” یہ ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے اور پی ٹی آئی کو اس معاملے کی حساسیت کا اندازہ ہے ، اسی لیے ہم اس ایشو پر پارلیمنٹ میں آواز اٹھاتے رہتے ہیں، سائبر کرائم بل کے اطلاق سے ہی اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ “انہوں نے پی ٹی اے کو اس ضمن میں موثر کردار ادا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.