31 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 19:48
عدلیہ اور بار کو ماضی کی کوتاہیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے،چیف جسٹس
جیو نیوز - اسلام آباد.......چیف جسٹس پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ عدلیہ اور بار کو ماضی کی کوتاہیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے، سپریم کورٹ کی وکالت کےلائسنس کے لیےدس سال کے تجربے کی شرط غلط ہے، سات سال کی پریکٹس کےبعد وکلا لائسنس کےاہل ہوں گے۔
اسلام آباد بارکونسل کی جانب سے نئے وکلا کو وکالت کا لائسنس دینے کی تقریب ہوئی، چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو فعال کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ججوں کے خلاف 90 فیصد شکایات وقت گزرنے کے ساتھ غیرموثر ہو چکی ہیں، دس فیصد شکایات پر دیانت داری سے فیصلہ کیا جائے گا۔
چیف جسٹس نےکہاکہ بنچ اور بار کے تعلقات میں بہتری آئی ہے، وکلا میں سے بھی کالی بھیڑوں کو نکالا جائے۔