7 نومبر 2015
وقت اشاعت: 15:15
لاہور کے اسپتالوں میں بیٹوں کو پکارتی، بین کرتی مائیں
جیو نیوز - لاہور.......لاہور کے فیکٹری سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں کی زیادہ تر لاشیں جناح اسپتال کے مردہ خانے لائی جا رہی ہیں، مرنے والوں میں 14 ،15 سال کے مزدور بچے بھی شامل ہیں، جگر گوشوں کو مزدوری کیلئے بھیجنے والے والدین کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔
روتی ،بین کرتی یہ مائیں ہیں ان جوان بیٹوں کی،جنہوں نے جوانی میں قدم رکھا تو اپنے گھروں میں مالی آسودگیاں لانے کیلئےسندر فیکٹری میں کام کرنے لگے،مگر بدنصیبی منتظر اوربےرحم اجل تاک میں تھی ، سانحہ کے بعد جگرگوشوں کو ڈھونڈتی مائیں اسپتالوں میں پہنچیں تو جوان بیٹوں کی لاشیں ملیں۔
آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب لیے ماؤں کی حالت دیکھی نہیں جاتی،جوان بیٹے کی موت کا غم کوئی ماں،کوئی باپ کیسے سہہ لے،پتھرائی آنکھیں ، خشک ہونٹ ، کئی ماؤں کو چپ سی لگی ہوئی ،تو کوئی بیٹے کا نام لے لے ،اسے پکارتی ہوئی۔
مردہ خانہ کے باہر بیٹھے کسی کے باپ ، کسی کے بھائی ،کسی کی ماں،بہن یا بیٹی کو اک پل چین نہیں، کبھی سانحہ والی جگہ تو کبھی مردہ خانے کا چکر ،پیاروں کی اک جھلک دیکھنے کو بےقرار۔