شعراء 

زخم امید بھر گیا کب کا


زخم ِ امید بھر گیا کب کا
قیس تو اپنے گھر گیا کب کا

اب تو منہ اپنا مت دکھاٶ مجھے
ناصحو میں سُدھر گیا کب کا

آپ اب پوچھنے کو آئے ہیں
دل مری جان مر گیا کب کا

آپ اک اور نیند لے لیجئے
قافلہ کوچ کر گیا کب کا

میرا فہرست سے نکال دو نام
میں خود سے مُکر گیا کب کا

بدھ, 06 فروری 2013

اس زمرہ سے آگے اور پہلے

اس سے آگےاس سے پہلے
کیا یقیں اور کیا گماں چُپ رہتمہیں کتنا یہ بولا تھا
متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.